یہ دورہ پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات، خطے میں امن، استحاکم

یہ دورہ پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات، خطے میں امن، استحاکم

اسلام آباد: دورہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفادات، باہمی دلچسپیوں کی بنیاد پر قائم طویل مدتی اشتراکیت کو وسیع تر کردے گا

یہ دورہ پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات، خطے کے امن، استحاکم اور خوشحالی پرمثبت اثرات مرتب کرے گا‘۔وزیراعظم عمران خان 21 جولائی سے 23 جولائی تک امریکا کا دورہ کریں گے جہاں 22 جولائی کو ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہوگی۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کی امریکی کانگریس کے اراکین، کارپوریٹ سربراہان اور رائے عامہ بنانے والے افراد کے ساتھ ساتھ امریکا میں مقیم پاکستانیوں سے بھی ملاقاتیں طے کی گئیں ہیں۔
عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ملاقات میں باہمی تعلقات اور علاقائی معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
علاقائی امور کی وضاحت کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم ’خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کریں گے‘۔
’اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں سیاسی حل کے فروغ کے لیے تعمیری کوششوں کیا اہمیت پر بھی زور ڈالیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

اسلام آباد: این ڈی ایس کی جانب سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے