پولیو فیلڈ اسٹاف اور مینیجمنٹ کے دوران رابطے کا فقدان رہا ہے

اسلام آباد: پولیو وائرس کے خاتمے کے بجائے تمام تر توجہ مرض کو کنٹرول کرنے پر اور کیسز کی تعداد میں کمی لانے پر لگائی گئی تھی

دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ جہاں 95 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں وہاں اس وائرس کا خاتمہ ہوگیا ہے، گزشتہ سالوں میں پولیو پروگرام کے اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 99 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے ہیں اور چند کیسز میں، جیسے جنوری 2019 کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ 101 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے، میرا ماننا ہے کہ فیلڈ اسٹاف کی جانب سے غلط ڈیٹا دیا گیا ہے کیونکہ ان کی کارکردگی پولیو کے قطرے پینے والے بچوں کی تعداد پر منحصر ہے’۔
ایک نئی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے جس کے ذریعے ایک سال میں پشاور سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہوجائے گا۔
بابر بن عطا نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں 95 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے اور انہوں نے پولیو سے پاک ملک بننے کا ہدف حاصل کرلیا۔
مجھے اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ فیلڈ اسٹاف اور مینیجمنٹ کے دوران رابطے کا فقدان رہا ہے جس کی وجہ سے فیلڈ ورکرز نے 99 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا دعویٰ کیا، اس کے علاوہ والدین کے پاس بھی وہی مارکرز موجود ہیں جو ہم انگلیوں پر سیاہی لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے تصدیق کے بھی مسائل کھڑے ہوتے ہیں تاہم جب بچے میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوتی ہے تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اسے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا گیا تھا’۔
پشاور واقعے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ والدین پر دوا پلانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جائے گا، پولیو مہمات کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ 8 فیصد والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں

اسلام آباد:وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے علما میں اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی)، متحدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے