احمد ندیم قاسمی نے ادب کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی ہے

احمد ندیم قاسمی نے ادب کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی ہے

لاہور: احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو پنجاب کے ضلع خوشاب کی وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کااصل نام احمد شاہ جب کہ ندیم ان کا تخلص تھا

ادب کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ جن میں شاعری، تنقید، افسانہ نگاری، بچوں کے ادب کے علاوہ انشائیے اور ڈرامے بھی شامل ہیں۔
احمد ندیم قاسمی نے شاعری کی ابتدا1931 میں کی، مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم اس وقت کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ ’’سیاست‘‘ کے سرورق پر شائع ہوئی، انہوں نے نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل کرلی تھی۔
افسانہ نگار اور شاعر کی حیثیت سے اس وقت خود کو نمایاں کیا جب بر اعظم پاک وہند میں ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔
بنیادی طور پر ایک شاعر تھے مگر افسانہ نگاری میں بھی انھوں نے پہاڑوں کی برف، نصیب، لارنس آف تھیلیسیا، بھاڑا، بدنام جیسے افسانے تحریر کیے۔

یہ بھی پڑھیں

رانا ثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 18 اکتوبر تک توسیع

رانا ثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 18 اکتوبر تک توسیع

لاہور:دورانِ سماعت رانا ثناء کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے اپنے دلائل میں کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے