مویشی منڈی کی انتظامیہ بیوپاریوں کو سہولیات دینے کے بجائے صرف رقم بٹورنے پر لگی ہے

مویشی منڈی کی انتظامیہ بیوپاریوں کو سہولیات دینے کے بجائے صرف رقم بٹورنے پر لگی ہے

کراچی: اب تک 10 ہزار سے زائد قربانی کے جانور لائے جا چکے ہیں تاہم اس سال پہلی بار مویشی منڈی آنے والے شہریوں کو گاڑیوں کی پارکنگ فیس ادا کرنا پڑے گی جس میں کار کے 30 اور موٹر سائیکل کی پارکنگ فیس 20 روپے ادا کرنے ہونگے

پارکنگ کا ٹھیکہ حاصل کرنے والے چوہدری طارق نے بتایا کہ مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں کی خریداری کے بعد گھروں کو لے جانے والی مال بردار گاڑیوں کی بھی داخلہ فیس مقرر کر دی گئی ہے جس میں سوزوکی پک اپ کے 300 روپے اور منی ٹرک سے 350 روپے ہر بار مویشی منڈی میں داخلے کے موقع پر وصول کیے جائیں گے۔
بیوپاری کا کہنا تھا کہ منڈی میں کسی قسم کی سہولت موجود نہیں ہے ، جانوروں کے لیے پانی خریدنا پڑ رہا ہے ، رات میں بجلی کا کوئی انتظام نہیں ہے ، گزشتہ سال جن پلاٹوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی تھی اس سال ان پلاٹوں کے ایک لاکھ 70 ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
مویشی منڈی کے انتظامات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ، سہولت حاصل کرنے کے لیے منہ مانگی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مویشی منڈی کی انتظامیہ کی تمام توجہ بیوپاریوں کو کسی بھی قسم کی سہولیات دینے کے بجائے صرف رقم بٹورنے پر لگی ہوئی ہے اور ان تمام خرچے کو پورا کرنے کے لیے ہمیں بھی مجبوراً قربانی کا جانور مہنگا فروخت کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

لیبارٹریوں کے معیار کو جانچنے کیلیے 11 رکنی ٹاسک فورس تشکیل

لیبارٹریوں کے معیار کو جانچنے کیلیے 11 رکنی ٹاسک فورس تشکیل

کراچی: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے سندھ بھر میں قائم لیبارٹریوں کے معیار کو جانچنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے