کراچی میں پانی کے مسئلے کے حل کے لیے وفاق اور سندھ حکومتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے

کراچی میں پانی کے مسئلے کے حل کے لیے وفاق اور سندھ حکومتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے

کراچی : سندھ حکومت نے کراچی میں پانی کی قلت،تقسیم اور دیگر مسائل کے حل کے حوالے سے ایک کمیٹی قائم کردی ہے۔ دوسری جانب گورنر سندھ کی کوششوں سے تاجروں نے شٹرڈاؤں ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت سیاسی اور غیر سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی میں پانی کے بحران کے خاتمہ کے لیے30 فیصد پانی کے ضیاع جوکہ 174 ایم جی ڈی بنتا ہے اسے کنٹرول کرنے اورانتظامی اقدامات کے ذریعے پانی کی چوری کو کنٹرول کیا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے پانی کی لیکیجز، نقصانات، چوری، قلیل المدت میں تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے کام کی نگرانی کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر کے آخر تک 100 ایم جی ڈی اور 65 ایم جی ڈی پانی سسٹم میں شامل ہوجائے گا اور وقت کے ساتھ کی گئی کاوشوں کی بدولت کے فور منصوبہ بھی مکمل ہوجائے گا جو کہ ایک مشکل ٹاس
کثیر الجماعتی اورغیرسیاسی اسٹیک ہولڈرز کی کانفرنس گزشتہ جمعہ کو نیو سندھ سیکریٹریٹ کی ساتویں منزل پر منعقد ہوئی جس میں سیاسی جماعتوں، تاجروں اور دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہر میں پانی کا سنگین مسئلہ ہے ہمارے سسٹم میں بمشکل 480 ایم جی ڈی پانی دستیاب ہے جبکہ پانی کی ضروریات 1000 ایم جی ڈی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان نے شرکاء کو پانی کی موجودہ صورتحال سے متعلق بریفنگ دی۔اس مسئلے پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بحث کو سمیٹتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا جس میں ہر ایک گروپ کا ایک نمائندہ شامل ہوگا جوکہ پانی کی لیکیجز، نقصانات، چوری، قلیل المدت میں تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے کام کی نگرانی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم پاکستان سے ان کے 12 جولائی کو کے فور منصوبے اور حب سے ڈی سیلینیشن پروجیکٹ کے حوالے سے ان کے دورے کے دوران ان سے بات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی شہر میں بجلی کی بندش ہوسکتی ہے

کراچی: کے الیکٹرک نے اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا عندیہ بھی دے دیا۔ کے الیکٹرک نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے