چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ووٹوں کی اکثریت درکار

چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ووٹوں کی اکثریت درکار

اسلام آباد: اس اجلاس کو بلانے کا فیصلہ نیشنل پارٹی (این پی) کے رہنما میر حاصل خان بزنجو کی راجا ظفر الحق سے ملاقات کے بعد کیا گیا

ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ’ہم نے تحریک عدم اعتماد کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا‘۔
میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ حکمت عملی پر پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن سینیٹرز کی ملاقات میں بھی غور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر تحریک عدم اعتماد پر دستخط کریں گے اور پھر اسے سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروایا جائے گا۔
چیئرمین سینیٹ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار کا فیصلہ جمعرات (11 جولائی) کو رہبر کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا، تاہم اب تک میں نہ اس کا امیدوار ہوں اور نہ کسی نے میرا نام تجویز کیا۔
اگرچہ اپوزیشن کے امیدوار کا حتمی فیصلہ جمعرات کو کیا جائے گا لیکن مسلم لیگ (ن) میں موجود ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ جماعت کو اس نشست کے لیے اپوزیشن کے امیدوار کا نام دینے کا موقع دیا گیا تھا، تاہم دوسرے ذرائع کہتے ہیں کہ اپوزیشن کا امیدوار بلوچستان سے ہوگا۔
ایوان بالا کے چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ 26 جون کو اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔
چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ووٹوں کی اکثریت درکار ہے، اس وقت پی پی پی، مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام (جے یو آئی ف) کے 46 ارکان ہیں جبکہ 29 آزاد امیدوار ہیں۔
اس کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے 2 اراکین ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور پی ایم ایل فنکشنل کا ایک، ایک رکن ہے۔
تاہم حکمران جماعت پی ٹی آئی کے 14 اراکین، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 5 اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے 2 سینیٹرز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ایس او پیز پر عمل اور احتیاط کریں ، آپ محفوظ رہیں گے

اسلام آباد: وزیراعظم نے کہا ہے کہ کورونا جانے والا نہیں، ویکسین کی تیاری تک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے