احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو لیک کے تنازع سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو لیک کے تنازع سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد: تنازع کا شکار جج ارشد ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات کی اور انہیں مبینہ ویڈیو ٹیپ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا

وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائی کورٹ کے ذریعے اس ویڈیو لیک کی تحقیقات کروانا چاہتی ہے۔
وزیراعظم نے گزشتہ روز اپنے ترجمانوں اور مشیر اطلاعات کے اجلاس کی سربراہی کی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کو ویڈیو لیک تنازع میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ اگر اس کی تحقیقات حکومت نے کروائی تو اپوزیشن اسے کبھی قبول نہیں کرے گی اور سیاسی فائدے کے لیے ایک دوسرا مسئلہ کھڑا کر دے گی۔
ویڈیو مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پیش کی تھی جس میں مبینہ طور پر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی ناصر بٹ کو بتایا کہ کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود نواز شریف کو سزا دلوانے کے لیے انہیں ’بلیک میل‘ کیا گیا۔
ججز اور عدلیہ آزادانہ طور پر کام کررہے ہیں اور وہ حکومت کو جواب دہ نہیں ’ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ اس ویڈیو کے فرانزک آڈٹ کا حکم دے اور عدالت اس حوالے سے پھر جو بھی فیصلہ کرے گی حکومت اس کی مکمل حمایت کرے گی‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت کسی کو بھی ملک کے قابل احترام اداروں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی اداروں کو متنازع بنانے کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی‘۔

یہ بھی پڑھیں

عمران خان کا دعوی تھا کہ اسٹیل ملز کو وہ چلا کر دکھائیں گے

عمران خان کا دعوی تھا کہ اسٹیل ملز کو وہ چلا کر دکھائیں گے

اسلام آباد: چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس ہوا تو اپوزیشن کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے