برلن: جرمنی نے امریکی مطالبہ مسترد کرتے ہوئے شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اپنی بری فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جرمنی نے امریکی مطالبہ مسترد کردیا، شام میں فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ

برلن: جرمنی نے امریکی مطالبہ مسترد کرتے ہوئے شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اپنی بری فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا نے درخواست کی تھی کہ جرمن حکام اپنی بری فوج شام میں تعینات کرے تاکہ داعش کے خلاف جاری جنگ اور دہشت گردی کے خاتمے میں مدد مل سکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی نے واضح کيا کہ داعش کے خلاف اتحاد کے ساتھ تعاون موجودہ صورت ميں برقرار رہے گا تاہم شام ميں فوج تعينات کرنا ہرگز منصوبے کا حصہ نہيں ہے۔

جرمنی کے حکومتی ترجمان اسٹيفان زائبرٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ شام میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی فوجی اتحاد سے تعاون جاری رکھیں گے البتہ جرمن بری فوج کی تعیناتی ممکن نہیں ہے۔

دریں اثنا امریکا نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ جرمن شامی اپوزیشن اتحاد کی تربیت اور معاونت کے لیے اپنے عسکری ماہرین کے دستے بھی شام بھیجے۔

خیال رہے کہ شام اور عراق میں داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں اسی سے زائد ممالک شامل ہیں اور اس مقصد کے لیے فی الوقت جرمن عسکری ماہرین اور جنگی جہاز عراق میں تعینات ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ہم داعش کو شکست دے چکے ہیں۔ تاہم اس اعلان کے بعد بھی داعش کی شدت پسندی جاری ہے۔ غیر ملکی میڈیا یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس کے جنگجو افغانستان منتقل ہورہے ہیں۔

سینچری ڈیل پر عمل نہیں ہو سکے گا، تحریک حماس

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے