کیا ایک خاتون ہونا بدبختی ہے؟

اگر میری جیسی خاتون کو ملک میں عدم تحفظ کا احساس ہوسکتا ہے تو سوچا جاسکتا ہے کہ عام لڑکیاں کیا محسوس کرتی ہوں گی

ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر اپنے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے ایشا گپتا نے لکھا ‘ میں ایک خاتون ہوں، ہم کہاں محفوظ ہیں؟ کیا ایک خاتون ہونا بدبختی ہے۔

انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا میں اپنے دوستوں کے ساتھ رات کے کھانے کے لیے ہوٹل میں آئی تھیں،جہاں اس شخص نے آنکھوں سے میرا ریپ کیا۔ یہاں تک کہ میرے ساتھ 2 سیکیورٹی گارڈ ہونے کے باوجود مجھے ایسا لگا جیسے میرا ریپ ہوگیا۔ میں اجنبی کے گھورنے کی شکایت کی۔

ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کچھ لوگ بہت زیادہ بدتمیز ہوتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے انہیں کبھی نہیں سکھایا گیا کہ اجنبی افراد سے کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے، آپ میں سے کچھ کو اخلاقیات سیکھنے کی ضرورت ہے

 

ایک اور ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا ‘ایسے افراد کی وجہ سے خواتین کہیں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں، ایسے افراد کو لگتا ہے کہ پوری رات کسی خاتون کو گھور کر عدم تحفظ کا احساس دلانا ٹھیک ہے، اس نے مجھے چھوا یا کچھ کہا نہیں مگر مسلسل گھورتا رہا، اس لیے نہیں کہ وہ مداح تھا اور نہ ہی اس لیے کیونکہ میں اداکارہ ہوں، اس لیے کیونکہ میں ایک خاتون ہوں، ہم کہاں محفوظ ہیں؟ کیا ایک خاتون ہونا بدبختی ہے۔

یہ معروف ہونے کی وجہ سے نہیں، عام لڑکی بھی ایسے تجربے سے گزرتی ہے، آخر ایک مرد قانون سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے اور کسی مرد کے لیے ایسی سوچ ٹھیک کیسے ہوسکتی ہے

یہ بھی پڑھیں

شہنشاہِ غزل مہدی حسن کی 92 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے

شہنشاہِ غزل مہدی حسن کی 92 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے

شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن مرحوم کی 92ویں سالگرہ آج 18جولائی کو منائی جا رہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے