امریکہ کی ایران کو پابندیوں کی ایک اور دھمکی

امریکہ کی ایران کو پابندیوں کی ایک اور دھمکی

ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے ایران کے تازہ اعلان کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے تہران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینیٹروں اور سیاسی ماہرین نے ایران کے اس اقدام کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کو احمقانہ قرار دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کی شرح میں اضافے کے اعلان کے بعد دعوی کیا ہے کہ  ایٹمی پروگرام کی توسیع تہران کو عالمی سطح پر مزید تنہا کر دے گی۔
پومپیو کے دعوے کے مطابق دنیا کے ملکوں کو اس دیرینہ معیار پر واپس آنا ہو گا کہ ایران کو ایٹمی پروگرام کے تحت یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر کرس مرفی نے مائک پومپیو کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورینیم کی افزودگی سے عاری قدیم ایٹمی معیاروں کو قبول کرنے والے ممالک آج یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ایٹمی معاہدہ اس لیے کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ دیوانوں کی مانند اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے۔
دو ہزار بیس کے صدارتی انتخابات کے لیے نامزد امیدوار اینڈرویانگ نے اس بارے میں کہا ہے کہ اگر امریکی پابندیاں جاری رہیں تو ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے بارے میں ایران کی سوچ محدود ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے، کشیدگی کو ہوا دینے کی نہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے سابق تجزیہ نگار ڈیوڈ ملر نے بھی کہا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم افزودہ بنانے کی شرح میں اضافے کا اعلان ٹرمپ انتظامیہ کے لیے درد سر بن گیا ہے۔
ریاست ورمونٹ سے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کے مشیر برائے عالمی امور متھ ڈیس نے بھی ایران کے  معاملے میں امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں پیدا ہونے والے مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں ٹرمپ کی احمقانہ پالیسیوں سے زیاد کوئی بھی چیز یورپ امریکہ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
امریکہ کی جانب سے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اور پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے نیز یورپ کی جانب سے اپنے وعدوں کی تکمیل میں مسلسل ٹال مٹول کے بعد ایران نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں مزید کمی کر دی ہے۔
ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی مکمل پابندی کیے جانے کے بعد یورپی فریقوں نے ایران کے ساتھ لین دین کے خصوصی مالیاتی نظام انسٹیکس سمیت کسی بھی وعدے پر تاحال عمل نہیں کیا ہے۔
ایران نے یورپی فریقوں کو دی جانے والی ساٹھ روز کی مہلت کے ختم ہونے کے بعد سات جولائی سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔
ایران نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ اندرون ملک تین اعشاریہ چھے سات فی صد سے زیادہ گریڈ کا یورینیم افزودہ بنائے گا اور عالمی نگراں ادارے آئی اے ای اے کے معائنہ کار پیر سے ایران کے اس عمل کی تصدیق کر سکیں گے۔

عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف مریم نواز کی تقریر بلاتعطل نشر کرنا پیمرا کے قواعد وضوابط کے خلاف ورزی ہے

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے