عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف مریم نواز کی تقریر بلاتعطل نشر کرنا پیمرا کے قواعد وضوابط کے خلاف ورزی ہے

عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف مریم نواز کی تقریر بلاتعطل نشر کرنا پیمرا کے قواعد وضوابط کے خلاف ورزی ہے

اسلام آباد: مریم نواز نے پریس کانفرنس کے دوران جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو بھی چلائی تھی جس کے مطابق ان کا دعویٰ تھا کہ اس ویڈیو میں ارشد ملک اپنے فیصلے پر ندامت کا اظہار کررہے ہیں

مریم نواز نے گزشتہ روز پارٹی قائدین کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس میں دباؤ میں آکر میرے والد وزیراعظم نوازشریف کو سزا سنائی۔
ٹی وی چینلز کو جاری کردہ اظہار وجوہ کے نوٹس میں کہا گیا کہ ’ایسا مواد نشرکرنا آئین سے متصادم اور سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ہے‘۔
نوٹس میں کہا گیا کہ ’مذکورہ مواد پیمرا قوانین اور الیکڑونک میڈیا کے ضابطہ اخلاق 2015 کی خلاف ورزی ہے‘۔
پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ہدایت دی کہ پریس کانفرنس کا کوئی حصہ نشر کرنا ہدایت اور عدلیہ کے خلاف ’قصداً خلاف وزری‘ تصور ہوگی۔
نوٹس میں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کا حوالہ دیا گیا جس میں عدالت عظمیٰ نے حساس معاملے پر جانبدار اور غیرپیشہ ورانہ پروگرام اور مواد کی نشریات پر شدید خدشات کا اظہار کیا تھا اور پیمرا کو ضابطہ اخلاق کے اطلاق پر عملدرآمد کا حکم دیا تھا۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا کہ اگر نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا تو پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 29، 30 اور 33 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ کیا جائےگا۔

یہ بھی پڑھیں

حکومت کا دوبارہ لاک ڈاؤن کا عندیہ

اسلام آباد: ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ اگر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے