یورپی رہنماؤں کو ایرانی وزیر خارجہ کا دو ٹوک جواب

یورپی رہنماؤں کو ایرانی وزیر خارجہ کا دو ٹوک جواب

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ تہران ایٹمی معاہدے پر بالکل اسی طرح سے عمل کرے گا جس طرح سے یورپی ممالک عمل کریں گے۔ دوسری جانب آئی اے ای اے میں ایران کے مستقل مندوب نے یورپی ملکوں کے اس بیان کے جواب میں کہ ایران کو یورینیم افزودہ نہیں کرنا چاہئے کہا ہےکہ یورینیم کی افزودگی ایران کا ناقابل انکار حق ہے۔

وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے یورپی ملکوں کے تازہ بیان کے جواب میں کہ جس میں انہوں نے ایٹمی معاہدے کے مطابق ایران کی جانب سے اٹھائے گئے قدم پر تنقید کی ہے کہا ایران اب اس کے بعد ایٹمی معاہدے کی شقوں پر بالکل اسی طرح عمل کرے گا جس طرح سے یورپی ممالک کریں گے –

وزیرخارجہ محمد جوادظریف نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا کہ ایران اس وقت تک ایٹمی معاہدے کی پابندی کرتا رہے گا جب تک تین یورپی ممالک ایٹمی معاہدے کے اقتصادی مندرجات کے بارے میں اپنے وعدوں پر عمل کرتے رہیں گے۔

انہوں نے صراحت کے ساتھ کہا کہ اب اس کے بعد ایران ایٹمی معاہدے کی شقوں پر بالکل اسی طریقے سے عمل کرےگا جس طرح سے یورپ نے عمل کیا اور آئندہ عمل کرے گا اور یہی روش کافی حدتک منصفانہ ہے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی اور تین یورپی ملکوں برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں ایران کے ذریعے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی مقدار میں اضافے کے فیصلے اور اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ یورپی یونین ایٹمی معاہدے پر اسی صورت میں عمل کرے گی جب ایران اس پر پوری طرح سے کاربند رہے گا۔ یورپی ملکوں نے ایران سے کہا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی سطح کو پہلی والی پوزیشن پہنچادیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ایٹمی معاہدے پر اب تک صرف ایران نے ہی عمل کیا ہے۔ وسری جانب آئی اے ای اے میں ایران کے مستقل مندوب نے یورپی ملکوں کے اس بیان کے جواب میں کہ ایران کو یورینیم افزودہ نہیں کرنا چاہئے کہا ہےکہ یورینیم کی افزودگی ایران کا ناقابل انکار حق ہے – ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے میں ایران کے مستقل مندوب کاظم غریب آبادی نے یورینیم کی ا‌فزودگی کو ایران کا ناقابل انکار حق قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ حق کوئی دوسرا ملک نہیں دیتا کہ جسے بعد میں واپس لے لیا جائے۔ انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کا یہ قول نقل کرتے ہوئے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو یکسر ختم کردینا امریکا  کا ایساخواب ہے جو کبھی بھی پورا نہیں ہوسکے گا  کہا کہ امریکیوں کو ایسا خواب دیکھنا بند کردینا چاہئے۔ ایران کے ذریعے اپنے افزدوہ یورینیم کے ذخیرے کی سطح میں اضافے کے اقدام پر امریکی حکام منجملہ وزیرخارجہ مائیک پمپیئو نے بین الاقوامی حقوق و قوانین کے منافی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو کسی بھی مقدار اور سطح میں یورینیم نہیں رکھنا چاہئے۔ واضح رہے کہ آٹھ مئی دوہزار اٹھارہ کو ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کے بعد یورپ نے ایٹمی معاہدے کے مطابق ایران کو جو اقتصادی فوائد پہنچانے کا وعدہ کیا تھا اس پر عمل نہیں کیا اور اسی کے جواب میں ایران نے ایٹمی معاہدے کےتعلق سے اپنے بعض وعدوں کو معاہدے کی شقوں چھبیس اور چھتیس کے مطابق معطل کردیا اور یورپ کو ساٹھ روز کی مہلت دی کہ وہ اس عرصے میں اپنے وعدوں پر عمل کرے بصورت دیگرتہران ایٹمی معاہدے کے ہی مطابق بعض دیگر وعدوں پر بھی عمل درآمد کو معطل کردے گا۔ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی سطح تین سو کلوگرام تک محدود نہ رکھنا بھی ایران کے انہی فیصلوں میں سے ایک ہے جس کا ایران نے پیر کو اعلان کیا ہے۔

یمنی فوج کے نئے میزائل سسٹم کی رونمائی

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے