ٹینس کی دنیا میں عالمی سطح پر یہ ان کی آمد کا باقاعدہ اعلان تھا

ٹینس کی دنیا میں عالمی سطح پر یہ ان کی آمد کا باقاعدہ اعلان تھا

لندن: کوکو کے نام سے معروف اس امریکی کھلاڑی نے 1968 میں لان ٹینس کے ’اوپن ایرا‘ کے آغاز کے بعد سے ومبلڈن کے مرکزی مقابلوں میں شرکت کے لیے کوالیفائی کرنے والی سب سے کم عمر کھلاڑی بن کر شہ سرخیوں میں تو جگہ پہلے ہی بنا لی تھی

پیر کو انھوں نے وینس ولیمز کو سنٹر کورٹ پر اپنے والدین اور بھرے مجمعے کے سامنے سٹریٹ سیٹ میں شکست دی تو ٹینس کی دنیا میں عالمی سطح پر یہ ان کی آمد کا باقاعدہ اعلان تھا۔
دو سابق گرینڈ سلام چیمپیئنز کا کہنا ہے کہ ’کوکو‘ گاؤف میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو اس کھیل میں عروج کے لیے درکار ہوتی ہیں۔
امریکی کھلاڑی اور دو بار یو ایس اوپن جیتنے والی ٹریسی آسٹن کا کہنا تھا کہ ’لوگ سالوں سے کوکو کے بارے میں بات کر رہے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب عالمی سطح پر بھی انھیں پہچانا جا رہا ہے۔ یقیناً وہ ایک زبردست کھلاڑی ہیں لیکن کورٹ پر وینس کے سامنے آنا، ایک ایسی کھلاڑی جنھیں وہ آئیڈلائزڈ کرتی ہیں، ان کے اعصاب کے امتحان لینے والے بہت سے مواقع آئے جہاں وہ نروس ہو سکتی تھیں۔
’انھیں عظیم بننے کے لیے پالا گیا ہے اور یہ تو صرف اس کی شروعات ہے۔‘
تین مرتبہ ومبلڈن جیتنے والے امریکی ٹینس سٹار جان میکینرو کا کہنا تھا ’گاؤف نہ صرف جسمانی طور پر پختہ ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی۔‘
’میں ان کے کھیلنے کے انداز کو دیکھتا ہوں۔ مجھے بہت حیرانی ہو گی اگر 20 سال کی عمر تک وہ دنیا کی نمبر ایک کھلاڑی نہ بن گئیں۔
گاؤف جنھوں نے سات سال کی عمر سے ٹینس کھیلنا شروع کی، ان کا تعلق کھلاڑیوں کے خاندان سے ہے۔
ان کے کوچ ان کے والد کورے ہیں جو جورجیا سٹیٹ یونیورسٹی کی جانب سے کھیلتے تھے جبکہ ان کی والدہ سینڈی جمناسٹک کرتی تھیں۔
ان کی بیٹی نے دو سال قبل اس وقت بڑے مقابلے جیتنا شروع کیے جب وہ صرف 13 سال کی عمر میں یو ایس اوپن کے لڑکیوں کے سنگل مقابلوں میں سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئیں اور گذشتہ سال اپنی 14ویں سالگرہ کے صرف دو مہینے بعد انھوں نے فرینچ اوپن ایکویلنٹ جیت لیا۔
ومبلڈن کا کوالیفائنگ مقابلہ اس سال گاؤف کے لیے ایک ہدف تھا لیکن 301ویں نمبر پر ان کی رینکنگ اس قابل نہیں تھی کہ وہ اس مقابلے میں حصہ لے سکتیں۔ تاہم آن لائن خریداری کرتے ہوئے انھیں معلوم ہوا کہ انھیں وائلڈ کارڈ مل گیا ہے۔
گاؤف نہایت آرام سے اس بڑے مقابلے کا حصہ بنیں۔ پہلے ہی سیٹ میں انھوں نے پانچویں گیم میں سروس بریک کی جبکہ دوسرے سیٹ میں بھی نویں گیم میں ایسا ہی کیا اور یوں وہ ایک ایسی کھلاڑی سے جیت گئیں جو ان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی چار گرینڈ سلام مقابلے جیت چکی تھیں۔
تاہم خود گاؤف کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ انھوں نے وینس ولیمز کو شکست دی ہے۔ میچ کے بعد نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا ’اس مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملنا میرے لیے خواب تھا، بس میں بہت خوش ہوں کہ میں یہ جیت سکی۔‘
’وہ بہت اچھا کھیلیں اور میرے ساتھ ان کا رویہ بہت اچھا رہا۔ میں جتنی بار بھی ان سے ملی انھوں نے میرے ساتھ ہمیشہ ہی اچھا برتاؤ کیا ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کھیل میں کیا حاصل کر سکتی ہیں تو اس پر ان کا جواب تھا کہ انھیں ’سب سے عظیم‘ کھلاڑی بننے کا ہدف دیا گیا ہے۔
گاؤف کا جنھیں سرینا ولیمز کے کوچ تربیت دے رہے ہیں، کہنا تھا ’جب میں صرف آٹھ سال کی تھی تو اس وقت میرے والد نے مجھے بتایا کہ میں یہ کر سکتی ہوں۔‘
’یقینا آپ کو اس پر کبھی یقین نہیں آتا۔ میں ابھی بھی 100 فیصد پُراعتماد نہیں ہوں۔ لیکن کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘
سابقہ امریکی کھلاڑی اور دنیا کی نمبر چھ چندا روبن بھی گاؤف کا کیرئر فالو کرتی آئی ہیں۔ انھوں نے
’آج ہم نے ناقابلِ یقین منظر دیکھا ہے۔
صرف 15 سال کی عمر میں گرینڈ سلام کا پہلا مین ڈرا۔ پہلا ومبلڈن مین ڈرا اور وہ بھی وینس ولیمز کے خلاف، انھوں نے اچھا کھیل پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں

سابق کپتان ثناء میر نے انٹر نیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

سابق کپتان ثناء میر نے انٹر نیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

ثنا ء میر نے کہا ہے کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا اعزاز اور گرین جرسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے