چاروں شہروں کے ہزاروں مزدور بے روزگار ہوگئے

چاروں شہروں کے ہزاروں مزدور بے روزگار ہوگئے

لاہور: ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹس غیر فعال ہونے کی وجہ سے چاروں شہروں کے ہزاروں مزدور بے روزگار ہوگئے جبکہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹس کی جانب سے کہا گیا کہ اگر حکومت نے ان کے جائز مطالبات ماننے سے مسلسل روگرانی کی تو اگلے 10 روز میں اپنے حتمی فیصلے سے آگاہ کریں گے

کراچی، فیصل آباد، لاہور اور گجرانوالہ کے تمام ممبر ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹس بند کردیئے، فیصل آباد کی 240 اور کراچی کے تقریباً 225 یونٹس احتجاجاً بند کیے گئے۔
دوسری جانب آل پاکستان ٹیکسٹائل سائزنگ ایسوسی ایشن(اے پی ٹی ایس اے) نے بھی فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور حافظ آباد میں جمعرات سے 100 ملزبند کرنے کا اعلان کردیا۔
اے پی ٹی ایس اے کے پیٹران شکیل انصاری نے بتایا کہ ’ہمارا اہم مسئلہ یہ ہے کہ تمام صنعتی شعبے تاحال رجسٹراڈ نہیں ہوسکے اس لیے حکومت کو پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ ’تجاری شعبے شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہم سے خریداری کے لیے آمادہ نہیں ہیں‘۔
اے پی ٹی ایم اے کے چیئرمین حبیب گجر نے حکومت سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اہم فیصلوں میں ساتھ شامل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’ہم حکومت کے ساتھ ہیں لیکن وہ صنعتی شبعوں میں بدنظمی پیدا کررہی ہے‘۔
اے پی ٹی ایس اے کے چیف شیکل انصاری نے فیصل آباد میں صحافیوں کوبتایا کہ ایس آر او 1125 کے تحت ٹیکس استثنیٰ کی حامل پانچ صنعتی شعبوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا اور ایس آر او منسوخ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں

چین کی جانب سے میڈیکل آلات، فیس ماسک اور حفاظتی کٹس آج لاہور پہنچیں گی

چین کی جانب سے میڈیکل آلات، فیس ماسک اور حفاظتی کٹس آج لاہور پہنچیں گی

لاہور: کورونا وائرس کیخلاف جنگ میں چین کی جانب سے امدادی سامان آنے کا سلسلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے