سوڈان میں فوجی حکومت کے خلاف لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئے

سوڈان میں فوجی حکومت کے خلاف لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئے

سوڈان: وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے حالیہ مظاہروں میں کہ کم از کم سات افراد ہلاک اور 181 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ مخالفت کی حامی سوڈان کے ڈاکٹروں کی سینٹرل کمیٹی نے پانچ مظاہرین کی ہلاکت کی بات کہی ہے

یہ اقدام ان کے خلاف عام بغاوت کا نتیجہ تھے۔ عمر البشیر 30 جون کو تختہ الٹنے کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔
تین جون کو آزادی کی حمایت والے مظاہرے کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد سے اتوار کو ہونے والا مظاہرہ سب سے بڑا تھا۔ تین جون کے کریکڈاؤن میں کئی درجن افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اتوار کو دسیوں ہزار افراد نے فوج کی زبردست موجودگی کے باوجود مظاہرہ کیا جس میں انھوں نے حکمراں فوجی کونسل سے عوامی قیادت والی حکومت کو اقتدار سونپے جانے کا مطالبہ کیا۔
سوڈان کے ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی نے کہا کہ دارالحکومت خرطوم کے جڑواں شہر اُم درمان میں چار افراد مارے گئے ہیں جبکہ ایک احتجاجی عطبرہ میں گولی سے زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لا سکا۔
کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ‘فوجی کونسل کے ملیشیا کی گولیوں سے بہت سے لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں اور وہ داراحکومت اور صوبے کے ہسپتالوں میں ہیں۔’
عبوری فوجی کونسل (ٹی ایم سی) کے نائب سربراہ جنرل محمد حمدان دقلو نے کہا: ‘وہاں سنائپر ہیں جو لوگوں پر فائرنگ کر رہے ہیں۔ انھوں نے ریپڈ سپورٹ فورس کے تین افراد کے ساتھ پانچ عام شہریوں کو گولی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس میں درانداز کرنے والے افراد شامل ہیں جو پیش رفت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے صدارتی محل کے پاس اور خرطوم کے تین مختلف اضلاع میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔
اشک آور گیس کا استعمال اُم درمان اور القضارف شہر میں بھی کیا گیا ہے۔
مظاہرین میں شامل ایک 23 سالہ لڑکی زینب نے اے ایف پی کو بتایا: ‘ہم لوگ یہاں دھرنے پر (تین جون کے) شہیدوں کے لیے ہیں۔ ہم ایک عوامی حکومت چاہتے ہیں جو ہماری آزادی کی ضامن ہو۔ ہم فوجی آمریت سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔’
سنيچر کو سوڈان کی پروفیشنل ایسوسی ایشن (ایس پی اے) نے ایک نیوز کانفرنس بلائی تھی جس میں نیم فوجی دستے آ گھسے اور اسے ختم کر دیا۔ خیال رہے کہ ایس پی اے مظاہرے کے اہم منتظمین ہیں۔
فوج نے کہا ہے کہ کسی بھی تشدد اور ہلاکت کے لیے وہ حزب اختلاف کو ذمہ دار ٹھہرائے گی۔
جنرل دقلو جنھیں ‘حمیتی’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے نے متنبہ کیا ہے کہ ‘شرپسند عناصر’ اور ‘پوشیدہ ایجنڈے والے’ مظاہرے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
جنرل دقلو پہلے محمد البشیر کے اتحادی تھے لیکن پھر انھیں اقتدار سے ہٹانے کے جنرل دقلو نے اپنی حمایت بدل لی۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد چین سے زیادہ ہوگئی

نئی دہلی: بھارتی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے