دماغ میں بننے والی سرطانی رسولیوں کو کئی اقسام میں بانٹا جاسکتا ہے

دماغ میں بننے والی سرطانی رسولیوں کو کئی اقسام میں بانٹا جاسکتا ہے

ساؤ پالو: یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو کے میڈیکل اسکول سے وابستہ ماہرِ جینیات گسٹافو ایلن کاسٹرو کروزیرو کہتے ہیں کہ ان کا بنایا ہوا طریقہ کم خرچ اور تیزرفتار ہے

ترقی یافتہ ممالک میں رسولی کی شناخت کے ٹیسٹ پر 60 ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور ان کا ٹیسٹ صرف 26 ڈالر میں یہی کام کرتا ہے۔
میڈیولوبلاسٹوما کی سرطانی رسولی پورے مرکزی نروس سسٹم کو متاثر کرتی ہے اور دو لاکھ میں سے ایک بچہ اس کا شکار ہوسکتا ہے۔ بچوں میں رسولیوں کی 20 فیصد تعداد کا تعلق اسی قسم کے کینسر سے ہوتا ہے۔
کیمیائی اور سالماتی (مالیکیولر) بنیاد پر اس کی چار ذیلی اقسام ہیں جو مریضوں میں عین انہی کیفیات کے تحت علاج میں مدد دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر رسولی پر ایک ہی طریقہ علاج کارگرنہیں ہوتا۔
پہلے ماہرین نے بچوں سے لے کر 24 سال تک کے نوجوانوں سے حاصل شدہ رسولیوں کے 92 منجمند نمونے لیے اور ہر نمونے کے رائبو نیوکلیئک ایسڈ (آراین اے ) الگ کیا اور اسے ایک مستحکم (اسٹیبل) کمپلیمنٹری ڈی این اے (سی ڈی این اے ) میں تبدیل کیا۔ یہ عمل پی سی آر کی مدد سے کیا گیا۔
معلوم ہوا کہ 20 جین ایسے ہیں جو میڈیولوبلاسٹوما کی چاروں اقسام میں پائے جاتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں ماہرین نے بایو انفارمیٹکس اور کمپیوٹر الگورتھم استعمال کیا جس نے اندازہ لگایا کہ سرطان کی ایک قسم سے دوسری قسم کو الگ کرنے کے لیے کم سے کم جین کی تعداد کتنی ہونی چاہیے۔
اس طرح بہت درستگی کے ساتھ بہت آسانی سے چاروں قسم کے سرطان کی شناخت کی جاسکتی ہے جس میں غلطی کا تناسب بھی بہت کم ہوتا ہے۔
بچوں میں رسولی کے بین الاقوامی ماہرین نے اس کاوش کو سراہا ہے۔ اگلے مرحلے میں اس پورے نظام کو ایک چھوٹے آلے میں سمونے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے لیے سرمایہ کار تلاش کئے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دوا کینسر کا سبب بن سکتی ہے جس کے بعد ڈریپ نے احکامات جاری

دوا کینسر کا سبب بن سکتی ہے جس کے بعد ڈریپ نے احکامات جاری

اسلام آباد: موجود ڈریپ کے دستاویزات میں کہا گیا کہ رینیٹیڈائن سے بننے والی دواؤں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے