وزارت قانون و انصاف نے 6 صفحات پر مشتمل جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادیا

وزارت قانون و انصاف نے 6 صفحات پر مشتمل جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادیا

اسلام آباد: وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا کی برطرفی کیس میں وزارت قانون و انصاف نے 6 صفحات پر مشتمل جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادیا

وزارت قانون وانصاف نے مشتاق سکھیرا کی تقرری کو ہی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محتسب کی تقرری صرف صدر کا اختیار ہے وزیراعظم کی سفارش کی ضرورت نہیں، صدر نے اپنی مرضی سے جو تقرری کرنا تھی وہ وزیراعظم کی سفارش پر کی گئی۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہٹانا ضروری نہیں، تقرری قانون کے مطابق نہ ہونے پر شوکاز جاری کرنا بھی ضروری نہیں جب کہ 30 اگست 2017 کو صدر نے وزیراعظم کی سفارش پر تقررکیا۔
وزارت قانون وانصاف نے جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ آرڈیننس 2000 کی شق 3(1) کے مطابق صدر پاکستان کو تقرری کا اختیار ہے، 2000 کے آرڈیننس اور محتسب ایکٹ 2013 میں تقرری کے لیے وزیراعظم کی سفارش کا ذکر نہیں، جسٹس سجاد علی شاہ کو سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے بغیر ہٹایا گیا جب کہ سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری غیرقانونی ثابت ہونے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے بغیر ہٹایا لہذا 2013 ایکٹ کی شق 5 کے مطابق محتسب کو سپریم جوڈیشل کونسل کے زریعے ہٹایا جا سکتا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کے زریعے ہٹانے کے قانون پر اسی وقت عمل ہوگا جب تقرری قانون کے مطابق ہو۔

یہ بھی پڑھیں

قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں صفر اعشاریہ 50 فیصد اضافہ کردیا

قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں صفر اعشاریہ 50 فیصد اضافہ کردیا

اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے