CPR میں ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے

CPR میں ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے

نبض ڈوبنے لگی اور پورا چہرہ پسینے سے بھر گیا۔ بیٹے نے فوراً بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال پہنچایا جہاں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ڈاکٹروں نے بروقت CPR کر کے جان بچائی

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں سب زیادہ اموات دل کی بیماریوں سے ہوتی ہیں۔ دل پر حملہ ہونے کے بعد آدھے سے زیادہ مریض بغیر کسی علاج کے بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں
گھر سے باہر ہارٹ اٹیک کی طرح دم گھٹنے، ڈوبنے، کرنٹ لگنے یا کسی اور وجہ سے بے ہوش ہو جانے، کسی دوا کی زیادہ مقدار کھالینے سے بھی خاصی اموات ہوتی ہیں۔ ان سب حالتوں میں دل کی رفتار اور سانس آنا بند ہو جاتا ہے
CPR میں ایک خاص دباؤ سے ڈوبے ہوئے دل کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ منہ در منہ سانس کے ساتھ سانس کی رفتار بحال کرتے ہیں، مگر CPR میں ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے۔ فوری طور پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہارٹ اٹیک میں چونکہ خون کی گردش رک جاتی ہے۔ دل خون کو پمپ نہیں کرتا اور سانس کی رفتار کم ہونے سے خون میں آکسیجن کی سپلائی بھی نہیں رہتی اس لیے فوری عمل جس سے دل اور سانس دونوں بحال ہو جائیں، جان بچا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو ہے اور یہ اس قدر نایاب

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو اور یہ اس قدر نایاب

یہ افراد دنیا کے وہ 15 فیصد افراد ہیں جن میں اب تک معلوم شدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے