اے پی سی میں بلوچستان بی این پی کی شرکت مشکوک

اے پی سی میں بلوچستان بی این پی کی شرکت مشکوک

بلوچستان: احتجاجی تحریک کو ایک پلیٹ فارم سے شروع کرنے کے مقصد پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اے پی سی آج منعقد ہورہی ہے جس میں بلوچستان کی بی این پی کی شرکت مشکوک تھی

اخترمینگل نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو مراسلے کے ذریعے اپنے موقف سے آگاہ کیا۔
انہوں مطالبہ کیا کہ اپوزیشن ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
پی پی پی کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ نیئربخاری، فرحت اللہ بابر، راجا پرویز اشرف اور سید خورشید احمد شاہ پر مشتمل چار رکنی کمیٹی بی این پی مینگل سے مذاکرات انتہائی سازگار رہی۔
حکومت کی جانب سے بھی ایک وفد نے سردار اخترمینگل کے اعتراضات اور تحفظات دور کرنے کے لیے ذاتی حیثیت میں ملاقاتیں کی تھیں۔
سرداراخترمینگل کے مطابق صدارتی انتخابات کے وقت بی این پی نے حکومت کے ساتھ 6 نکاتی ایجنڈے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا جبکہ اس سے قبل 9 نکات پر سمجھوتہ کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے کسی ایک نکتے پر عمل نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے یہ لوگ جان بوجھ کر اسمگلنگ کو فروغ دے رہے ہیں

قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے یہ لوگ جان بوجھ کر اسمگلنگ کو فروغ دے رہے ہیں

کوئٹہ: بدرالدین کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ کا ایوانِ صنعت و تجارت قانونی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے