ذہنی بیمار قاتل امداد علی کی پھانسی پر عملدرآمد روک دیا گیا

سپریم کورٹ نے امام مسجد کے قتل کے مجرم اور ذہنی طور پر معذور امدادعلی کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے امداد علی کی اہلیہ کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی اپیل کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ماہ کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔

50 سالہ امداد علی کو 2002 میں وہاڑی کی ایک عدالت نے امام مسجد کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی اور اس کے وکلا نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی کہ امداد علی ذہنی بیماری شیزو فرینیا کا شکار ہے لہذاٰ اس کی سزائے موت کو ختم کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے امداد علی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیزو فرینیا مستقل ذہنی بیماری نہیں اور اس وجہ سے کسی طور بھی سزا ختم نہیں کی جاسکتی۔

عدالت نے فیصلے کے بعد مجرم امداد علی کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردئے تھے اور اسے منگل کو وہاڑی جیل میں پھانسی دی جانی تھی تاہم امداد علی کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں گزشتہ ہفتے نظرثانی کی درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ اسے فوری طور پر سنا جائے.

یہ بھی پڑھیں

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

پشاور: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے