اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بے نتیجہ اجلاس

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بے نتیجہ اجلاس

امریکہ کے مار گرائے جانے والے ڈرون طیارے کے مسئلے کا جائزہ لینے کے لئے واشنگٹن کے دباؤ پر تشکیل پانے والا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر اعلانیہ اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے مار گرائے جانے والے ڈرون طیارے کے مسئلے کا جائزہ لینے کے لئے واشنگٹن کے دباؤ پر تشکیل پانے والا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر اعلانیہ اجلاس کے اختتام پر اقوام متحدہ میں کویت کے مستقل مندوب اور سلامتی کونسل کے موجودہ چیئرمین منصور عیاد العتیبی نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں امریکہ کے مار گرائے جانے والے ڈرون طیارے پر بات چیت کرنے کے بجائے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے سیاسی امور کی سیکریٹری روزمیری دیکارلو کی جانب سے خلیج فارس میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں معلومات فراہم کئے جانے کی خبر دی اور کہا کہ سلامتی کونسل کے اراکین نے آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کی، جو توانائی کی فراہمی اور کشتیرانی کی آزادی کے لئے بڑا خطرہ ہیں، مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ چیئرمین نے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ملکوں نے تمام فریقوں اور علاقے کے تمام ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور ایسے اقدامات عمل میں لائیں جن سے کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کے نگراں نمائندے جوناتھن کوہن نے، جو سلامتی کونسل کے اجلاس سے خالی ہاتھ واپس نکل رہے تھے، نامہ نگاروں سے گفتگو میں امریکی حکام کے دعوؤں کا اعادہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ امریکی ڈرون طیارہ بین الاقوامی سمندری حدود کی فضا میں پرواز کر رہا تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ غیر اعلانیہ اجلاس ایسی حالت میں منعقد ہوا ہے کہ امریکی دباؤ پر اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی اس اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے ہیں۔
اس اجلاس کے موقع پر مجید تخت روانچی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ امریکی جارح ڈرون طیارے کو مار گرانے سے متعلق ایران کا اقدام، عالمی قوانین کے عین مطابق رہا ہے، کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کی اکیاون ویں شق میں اس دفاعی اقدام کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
ایک ایسے ملک کی حیثیت سے کہ جس کی فضائی حدود کی امریکہ کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی تھی، ایران کا حق بنتا تھا کہ اسے اس اجلاس میں شرکت کرنے کی اجازت دی جاتی۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ ایران نے اس اجلاس میں شرکت کی درخواست کے ساتھ ساتھ اپنی مکمل آمادگی کا بھی اعلان کیا تھا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایران کو اس اجلاس میں شرکت سے محروم رکھا گیا۔
مجید تخت روانچی نے کہا کہ اس واقعے کے بارے میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے لئے ایران کے پاس ناقابل انکار اطلاقات و دستاویز موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران جنگ یا علاقے میں کسی طرح کی کوئی کشیدگی نہیں چاہتا مگر بعض ممالک علاقے میں بحران پیدا کئے جانے کے خواہاں ہیں تاکہ وہ علاقے میں بعض ملکوں کو ہتھیار خریدنے کی ترغیب دلا سکیں حالانکہ وہ ان ہتھیاروں سے جارحیت کا ارتکاب کر رہے ہیں جیساکہ ان ہتھیاروں کو یمنی عوام کے خلاف استعمال کر کے انسانیت کے خلاف ہولناک ترین جرائم کا ارتکاب بھی کیا گیا۔

کابل حکومت کو علیحدہ رکھنے سے طالبان امن مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوں گے، افغان سفیر

یہ بھی پڑھیں

دبئی ائیر شو 2019 کا آغاز ؛ پاکستان سمیت 160 ممالک کی شرکت

دبئی ائیر شو 2019 کا آغاز ؛ پاکستان سمیت 160 ممالک کی شرکت

دبئی میں سالانہ ائیر شو 2019 کا آغاز ہوگیا ، ائیر شو میں پاکستان سمیت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے