ترکی میں دس ہزار سرکاری ملازمین برطرف

ترک حکومت کی جانب سے جاری حکم نامے میں سرکاری ملازمیں اساتذہ،ڈاکٹرزاور نرسیں شامل ہیں جن کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا ہے اس کے علاوہ 15ذرائع ابلاغ کے دفاتربندکرنے کاحکم دیا گیاہے۔

ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ بغاوت میں ملوث افراد کو سزائے موت کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری کی سفارش کریں گے۔

رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت یہ تجویز پارلیمنٹ میں لے کر جائے گی۔یقین ہے کہ پارلیمنٹ سے اس کی منظوری مل جائےگی،اور یہ فیصلہ مجھ تک آئے گا تومیں اس کی توثیق کر دوں گا۔

خیال رہے کہ ترک حکومت کی جانب سے فتح اللہ گولن پر ناکام فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا جاتا ہے۔

ترکی میں ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد 18000 ہزار گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں۔پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے 66000 افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

یاد رہے کہ ترکی میں حکام کے مطابق 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں تقریباً نو ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ بغاوت میں حصہ لینے والے فوجی اہلکاروں کے پاس 35 جہاز، 37 ہیلی کاپٹر، 74 ٹینک اور تین بحری جہاز تھے۔

 

یہ بھی پڑھیں

گروپ سیون اجلاس کے موقع پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

گروپ سیون اجلاس کے موقع پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

گروپ سیون کے اجلاس کے موقع پر فرانسیسی پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے