انٹارکٹکا میں بحیرۂ راس کو مکمل تحفظ دینے پر اتفاق

اس کے تحت تقریباً 1.57 ملین مربع کلومیٹر کے حصے کو آئندہ 35 سال تک مچھلیوں کے شکار سے محفوظ قرار دیا جائے گا۔

ماحولیات کے ماہرین نے دنیا کے سب سے قدیم ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

ان کے خیال میں یہ بین الاقوامی پانیوں میں اس قسم کا یہ پہلا اقدام ہوگا۔

نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ مرے مک کلی نے ہوبارٹ میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ انٹارکٹک میں آبی حیات کے بچاؤ کے کمیشن نے اتفاق رائے سے بحیرۂ راس کو (ایم پی اے) یعنی میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دیا۔

خیال رہے کہ بحیرۂ راس بحرِ منجمد جنوبی کے صرف دو فیصد حصے پر پھیلا ہوا ہے۔ دنیا میں ایڈیل پینگوئن کی 38 فیصد تعداد یہاں پائی جاتی ہے۔ اس علاوہ 30 فیصد پیٹریل پرندیں اور چھ فیصد مائنک وہیل مچھلیاں بھی یہیں پائی جاتی ہیں۔

اس علاقے کو دنیا کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ اہمیت حاصل ہونے کی ایک وجہ یہاں کے گہرے پانی کا توانائی بخش ہونا بھی ہے۔

تاہم بحیرۂ راس میں حد سے زیادہ مچھلیوں کے شکار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث یہاں پائی جانے والی آبی حیات کی تعداد میں ہونے والی کمی بھی باعث تشویش ہے۔

نیوزی لینڈ اور امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی اور دیگر تمام ممالک کے جانب سے منظور کی جانے والی اس تجویز کے تحت اس علاقے کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور یہاں سے کوئی بھی چیز ہٹائی نہیں جائے گی جن میں آبی حیات اور معدنیات بھی شامل ہیں۔

مذاکرات کے دوران یہ طے پایا کہ اس علاقے میں بعض خصوصی زون ہوں گے جہاں تحقیق کے لیے بعض آبی حیات کے شکار کی اجازت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

انتہاؤں کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے کامیاب صرف وہ ہوتے ہیں جو خود بھی بے انتہا دیوانے ہوں

انتہاؤں کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے کامیاب صرف وہ ہوتے ہیں جو خود بھی بے انتہا دیوانے ہوں

پیارے مولانا صاحب! وقت سدا ایک سا نہیں رہتا الٹ پھیر دنیا کا پرانا وتیرہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے