سینئیر صحافی, سمیع ابراہیم کو, تھپڑ مارنا, نا قابل قبول, ہے

سینئیر صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنا نا قابل قبول ہے

: وفاقی وزیر فواد چوہدری کا سینئیر صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنا نا قابل قبول ہے۔ ہم یہ کس طرح کا کلچر پروان چڑھا رہے ہیں

سمیع کے ساتھ فواد چوہدری کا کوئی مسئلہ ہے تو انھیں قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ میں سمیع ابراہیم سے بہت سے ایشوز پر اتفاق نہیں کرتا لیکن ان کے منہ پر تھپڑ سب صحافیوں کے منہ پر تھپڑ ہے۔
فواد چوہدری نے صحافی عارف حمید بھٹی کے ایک ٹویٹ جس میں انھوں نے اس تھپڑ پر سخت رد عمل دیا اس جھگڑے سے متعلق ٹویٹ کا جواب دیا۔
فواد چوہدری کے جواب پر صحافی رؤف کلاسرا نے رد عمل دیتے ہوئے فواد چوہدری کو کہا کہ وہ سمیع ابراہیم سے یہ جنگ ہار گئے ہیں۔
گذشتہ شب فیصل آباد میں ایک شادی کی تقریب میں جب فواد چوہدری اور سمیع ابراہیم کا آمنا سامنا ہوا تھا تو فواد چوہدری نے سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا۔
اس جھگڑے کے محرکات جاننے کے لیے فریقین سے بات کی تو فواد چوہدری نے بتایا کہ جب تقریب میں سمیع ابراہیم سے ان کا سامنا ہوا تو انھوں نے اشتعال میں آ کر تھپڑ مار دیا۔
ٹی وی اینکر سے جھگڑے کا پس منظر بتاتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے حکومتی اشتہارات کو سٹریم لائن کیا اور رییٹنگز کے مطابق A,B, C اورD کیٹیگیز بنائیں۔ اس تبدیلی سے حکومتی اشتہارات کے اخراجات میں 70 فیصد کمی آئی۔ اب چینلز میں دوڑ تھی کہ ہمیں A یا B کیٹیگری میں رکھیں۔ سمیع ابراھیم نے مجھے کہا کہ ہم نے آپ کی بہت خدمت کی ہے ہماری کیٹگری A کریں اور ساتھ ہی دو کروڑ روپے کی ایڈجسٹمنٹ کا بھی کہا۔ میرے انکار کے بعد ایک مستقل مہم میرے خلاف شروع کر دی گئی جو بلیک میلنگ کی شکل اختیار کرگئی تھی۔
سمیع ابراہیم نےبتایا کہ گذشتہ رات وہ ایک شادی کی تقریب کے دوران فیصل آباد سے تحریک انصاف کے ایم این اے فرخ حبیب، ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، دو صحافی رؤف کلاسرا اور ارشد شریف کے ساتھ کھڑے گپ شپ کر رہے تھے۔
سمیع ابراہیم کا موقف ہے کہ ’مجھے تقریب میں کسی کی پنجابی میں گالیاں دینے کی آواز آئی۔ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وفاقی وزیر فواد چوہدری میرے قریب پہنچ چکے تھے اور بغیر کوئی بات کیے میرے منہ پر زور کا تھپڑ دے مارا جس سے میری عینک بھی زمین پر گر گئی۔ تاہم میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ انھوں نے بحث کے دوران سمیع ابراہیم کو جو تھپڑ مارا ہے وہ صحافت کے منہ پر نہیں بلکہ زرد صحافت کے منہ پر طمانچہ تھا۔ سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا جس پر انھوں نے مقامی پولیس کو ایف آئی آر کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔ ’تاہم پولیس نے مجھے بتایا ہے کہ درخواست پر فوری کارروائی ممکن نہیں ہے۔
فواد چوہدری کے الزامات کے جواب میں سمیع ابراہیم نے بتایا کہ انھوں نے وزیر اعظم سے ایک ملاقات کے بعد فواد چوہدری کو یہ تجویز ضرور دی تھی کہ ٹی وی ریٹنگ سے متعلق کوئی پیمانہ ضرور ہونا چایے تاہم انھوں نے دو کروڑ مانگنے سے متعلق الزام کو مسترد کردیا۔
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سمیع ابراہیم مسلسل انھیں بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ’میں نے اس متعلق ہر فورم پر درخواست دی لیکن کسی نے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی۔ ہر معاملے کی کوئی حد ہوتی ہے جب مجھے موقع ملا تو میں نے ایک تھپڑ جڑ دیا۔‘
سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے فواد چوہدری کے ایم ڈی پی ٹی وی سے جھگڑے میں ان کے بیانیے کا ساتھ نہیں دیا تو ان کو اس بات کا بھی شدید ملال تھا اور میرے پاس ایسے ثبوت تھے کہ فواد چوہدری تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سازش کررہے ہیں لیکن اب کا جواب سکرین پر دینے کے بجائے انھوں نے تھپڑ سے دیا ہے۔ ’دیکھتے ہیں کہ اب عمران خان اپنی کابینہ میں شامل ایسے وزیر کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ملک میں گیس پائپ لائن کے نیٹ ورک کو ’ہنگامی صورتحال‘ کا سامنا

ملک میں گیس پائپ لائن کے نیٹ ورک کو ’ہنگامی صورتحال‘ کا سامنا

اسلام آباد: بہت خطرناک صورتحال ہے کیوں کہ مائع قدرتی گیس کے دونوں ری گیسفکیشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے