آئین کے تحت مشیران اور, معاونِ خصوصی کو, حکومتی امور کے, اختیارات, نہیں دیے, جاسکتے

آئین کے تحت مشیران اور معاونِ خصوصی کو حکومتی امور کے اختیارات نہیں دیے جاسکتے

پشاور: جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رکنِ صوبائی اسمبلی خوش دل خان کی جانب سے دائر درخواست پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے مذکورہ احکامات دیے

 

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے تحت مشیران اور معاونِ خصوصی کو حکومتی امور کے اختیارات نہیں دیے جاسکتے۔
درخواست نے استدعا کی کہ متعلقہ قانون اور اس قسم کی تعیناتیوں کے استعمال کیے جانے والے اصول و ضوابط کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔
بعد ازاں عدالت نے پرنسپل سیکریٹریز کے ذریعے گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جبکہ دیگر 5 مشیران اور معاون خصوصی کو اپنا جواب جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 26 جولائی تک کے لیے ملتوی کردی۔
عدالت کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق 13 ستمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن جس کے ذریعے 5 تقرریاں کی گئیں تھیں مزید احکامت جاری ہونے تک معطل رہے گا۔
وزیراعلیٰ کی تجویز پر پہلے نوٹیفکیشن کے ذریعے گورنر خیبرپختونخوا نے ضیا اللہ بنگش کو ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے لیے، حمایت اللہ خان کو توانائی، عبدالکریم خان کو صنعت و تجارت جبکہ کامران بنگش کو سائنس ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا معاون خصوصی مقرر کیا تھا۔
22 جنوری کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق اجمل وزیر وک ضم کیے گئے اضلاع کی نگرانی و تعاون کے امور اور صوبائی حکومت کے ترجمان کے طور پر مشیر مقرر کیا گیا تھا۔
درخواست گزار سابق ڈپٹی اسپیکر اور سینئر وکیل ہیں جنہوں نے عدالت سے خیبرپختونخوا کے مشیر و معاون خصوصی کے قانون بتائے 1989، رول آف بزنس 1985 کے رول نمبر 33 اے کو آئین سے متصادم قرار دے کر معطل کرنے کی استدعا کی۔

یہ بھی پڑھیں

صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے سیکورٹی پلان مرتب

صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے سیکورٹی پلان مرتب

پشاور: پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق 20 جولائی کو ضلع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے