سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان نے آئین کے آرٹیکل دو سو چھ (1) کے تحت اپنے عہدے سے استعفی دیا۔ تاہم استعفی میں مستعفی ہونے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان نے ہفتہ وار تعطیل یعنی اتوار کے زور اپنے عہدے سے استعفی دیا۔

پاکستان کے آئین کے تحت صدر مملکت ہی اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے تقرر کے احکامات جاری کرتے ہیں اور صدر کو ہی استعفی دیا جاتا ہے۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان سینیارٹی کے اعتبار سے سپریم کورٹ میں آٹھویں نمبر پر تھے اور انھوں نے 2021 میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہونا تھا۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان فروری 2013 میں سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور لگ بھگ ساڑھے تین سال سپریم کورٹ کے جج رہے۔

اقبال حمید الرحمان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد قائم ہونے والی اسلام آباد ہائیکورٹ کے پہلے چیف جسٹس بننے۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس حمود الرحمان کے بیٹے ہیں۔

سنہ 2006 میں جسٹس اقبال حمید الرحمان لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اور ایک سال کے بعد ہائیکورٹ کے مستقل جج بن گئے۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان نے لاہور ہائیکورٹ کے مستقل جج بننے کے چند ہی دنوں بعد سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ عبوری آئینی فرمان یعنی پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان 1998 میں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

پشاور: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے