فلسطین کو لاحق خطرات

صدی کی ڈیل ! فلسطین کو لاحق خطرات
تحریر: صابر ابو مریم

صدی کی ڈیل کے خد و خال کے مطابق مرحلہ وار امریکی صدر نے امریکن سفارتخانہ کو بھی مقبوضہ فلسطین کے تل ابیب شہر سے نکال کر یروشلم میں منتقل کیا ہے ۔

مسئلہ فلسطین تاریخ انسانیت میں ایک اہم ترین مسئلہ ہے ۔ اس مسئلہ کی بنیاد کو تلاش کیا جائے تو ایک سو سال قبل یعنی1917ء میں برطانوی سامراج کی جانب سے پیش کیا جانے والے اعلان بالفور تھا کہ جس کی بنیاد پر تمام یورپی ومغربی حکومتوں نے فلسطین پر ایک صہیونی جعلی ریاست قائم کرنے کی تجویز کو منظور کیا ۔ فلسطینی عوام نے اس وقت بھی اس اعلان بالفور کو مسترد کیا تھا اور بعد میں بھی اقوام متحدہ کی چادر بین الاقوامی سازشوں کے نتیجہ میں منظور کی جانے والی قرار دادوں کو بھی مسترد کیا جاتا رہا ۔

یہ یقینا فلسطین کے عوام کا بنیادی حق تھا اور ہے کہ وہ اپنے مستقبل اور قسمت کا فیصلہ خود کریں نہ کہ دنیا کی استعماری قوتیں فلسطین کے مستبقل کا فیصلہ کریں ۔ فلسطین کی غیور ملت نے ہر ایسی قرار داد اور عمل کی شدید مخالفت کی کہ جس کا فائدہ براہ راست یا بالواسطہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قیام یا پھر اس کے بعد صہیونیوں کے حق میں جاتا تھا ۔ فلسطینی عوام نے نہ صرف ایسی کوششوں کو مسترد کیا بلکہ جس حد تک ممکن ہوا جد وجہد بھی کی، ہڑتالوں سے لے کر مظاہروں تک اور ہر محاذ پر احتجاج کا دروازہ کھولے رکھا ۔

بہر حال فلسطین کے مسئلہ کو اعلان بالفور سے اب تک ایک سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے ۔ دراصل فلسطین پر صہیونی قبضہ اور فلسطینی عوام پر صہیونی مظالم کی اصل تاریخ بھی ایک سو سالہ ہی بنتی ہے ۔ اس دوران عالمی سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ صہیونیوں کی جعلی ریاست کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے ۔ ان ہتھکنڈوں میں فلسطین کے عوام پر جنگیں مسلط کرنا، ظلم و بربریت کرنا، گھروں سے بے گھر کرنا، جبری طور پر جلا وطن کرنا، بنیادی حقوق سے محروم کرنا سمیت خطے میں دہشت گرد گروہوں کو پروان چڑھا کر مسئلہ فلسطین کو مسلم دنیا میں صف اول کا مسئلہ بننے سے دور رکھنا ۔

ایک سو سالہ دور میں فلسطینی تحریکوں کے سربراہان ک ومذاکرات کی میز پر بھی بٹھایا گیا لیکن نتیجہ میں امریکہ اور عالمی قوتوں نے ہمیشہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور اس کے بڑھتے ہوئے صہیونی عزائم کے سامنے سرتسلیم خم رکھا جبکہ ان نام نہاد مذاکرات کا ہمیشہ فلسطینیوں کو خمیازہ بھگتنا پڑا ۔ اب صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ صہیونیوں نے غزہ کی پٹی کو گذشتہ بارہ سال سے محاصرے میں لے رکھا ہے ۔ انسانی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔ ایسے حالات میں فلسطین کے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔

فلسطین پر صہیونیوں کے ایک سو سالہ مظالم کی تاریخ کی سرپرستی کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر عالمی سامراج اور دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکہ نے فلسطین کا سودا کرنے کی ٹھان رکھی ہے ۔ ایک سو سال پہلے سودا گر برطانوی سامراج کی شکل میں آئے تھے ۔ پھر ایک سو سال تک امریکی سامراج فلسطینی عوام پر ہونے والے صہیونی مظالم کی سرپرستی کرتا رہا ۔ اب ایک سو سال مکمل ہونے پر امریکی صدر نے خود کو دنیا میں چیمپئین منوانے اور اپنے اگلے انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے صہیونیوں کے ساتھ کئے گئے وہ تمام وعدے پورے کرنے کی ٹھان رکھی ہے کہ جو امریکی صدر ٹرمپ کو امریکہ میں صہیونی لابی کی حمایت دلوا سکتے ہیں ۔ ان تمام وعدوں میں سب سے بڑا وعدہ مسئلہ فلسطین کو ختم کرنے کا ہے جس کے لئے امریکہ نے ایک پلان ترتیب دیا ہے جسے ’’صدی کی ڈیل ‘‘ کہا جارہا ہے ۔ یہ ڈیل امریکی صدر کے داماد کوشنر نے صہیونی جعلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یا ہو کے ساتھ مل کر ترتیب دی ہے ۔ اس ڈیل کے نتیجہ میں امریکہ چاہتا ہے کہ پورے خطے پر صہیونی بالا دستی قائم ہو جائے اور مسئلہ فلسطین ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امریکی خواہشات اور صہیونی من مانی کے مطابق ختم کر دیا جائے ۔ عالمی ذراءع ابلاغ پر ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا چرچہ گذشتہ ایک برس سے جاری ہے لیکن اس معاہدے کے تفصیلی خد وخال مکمل طور پر سامنے نہیں آئے ہیں کیونکہ امریکہ نے اس ڈیل کو خفیہ طور پر خطے کی تمام عرب ومسلمان حکومتوں سمیت یورپ اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مخفی رکھا ہو اہے ۔

مسئلہ فلسطین سے متعلق امریکی ’’صدی کی ڈیل‘‘ نامی منصوبہ در اصل فلسطینیوں کو ان کے حق واپسے محروم کرنا چاہتا ہے، فلسطینی جو فلسطین واپسی کی عالمی تحریک چلا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دنیا بھر سے فلسطینیوں کی اپنے وطن واپسی ہو ۔ اس واپسی کے عمل کو امریکہ اور اسرائیل صدی کی ڈیل کے تحت روکنا چاہتے ہیں ۔ اس ڈیل کے تحت امریکہ چاہتا ہے کہ فلسطین میں موجود تمام فلسطینیوں کو اردن کی طرف دھکیل کر زمین کا کوئی چھوٹا ٹکڑا دے دیا جائے اور فلسطینیوں کو فلسطین سے دستبردار کر دیا جائے ۔ جبکہ فلسطین کے عوام کا ایک ہی نعرہ ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے ۔ اسی منصوبہ کا ایک حصہ مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس سے متعلق ہے کہ جس پر امریکی صدر نے پہلے ہی یکطرفہ اعلان کیا تھا کہ یروشلم شہر فلسطین کا نہیں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت ہے ۔ جبکہ تین ہزار سالہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یروشلم فلسطین کا ابدی دارلحکومت تھا ۔ صدی کی ڈیل کے خد و خال کے مطابق مرحلہ وار امریکی صدر نے امریکن سفارتخانہ کو بھی مقبوضہ فلسطین کے تل ابیب شہر سے نکال کر یروشلم میں منتقل کیا ہے ۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کے ان اقدامات کو دنیا بھر میں مذمت کا سامنا رہا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر ایسے فیصلوں کو مسترد کیا ہے ۔ حالیہ دنوں امریکی صدر کی جانب سے شام کے علاقہ جولان کی پہاڑیوں سے متعلق بھی اسرائیل کا حق تسلیم کیا تھا جس کو دنیا بھر میں شدید مذمت کا سامنا رہا اور مسلم دنیا سمیت یورپ نے بھی ایسے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ۔

ماہرین سیاسیات کا کہنا ہے کہ مسلسل ایک سال میں امریکی صدر کے فلسطین و القدس سے متعلق یکطرفہ فیصلوں اور اعلانات نے یہ ثابت کیا ہے کہ دراصل امریکہ صدی کی ڈیل کے خد وخال پر ہی کاربند ہے اور آہستہ آہستہ اس معاہدے کے خد وخال کو اپنے جارحانہ عوامل کے ذریعہ آشکار کر رہا ہے ۔ اس تمام تر صورتحال میں خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے لئے فلسطین کو ختم کرنے کا ارادہ کر چکا ہے ۔ اس مقصد کے لئے صدی کی ڈیل نامی معاہدے کے تحت خطے کی تمام عرب ومسلمان ریاستوں کو امریکہ نے معاشی پیکج کے نام پر اربوں ڈالر کی لالچ دے رکھی ہے جبکہ کئی ایک شہزادوں اور بادشاہوں کو اگلے پچاس برس کی بادشاہت کی ضمانت بھی دی گئی ہے ۔ بدلے میں امریکہ کو صدی کی ڈیل پر ان تمام عرب و مسلمان ممالک سے حمایت درکار ہے ۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق خطے کی تمام عرب خلیجی ریاستوں نے امریکہ کے فلسطین دشمن صدی کی ڈیل نامی معاہدے پر دستخط کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے جبکہ ابھی تک اردن نے اس ڈیل کو مسترد کر رکھا ہے یا اس کے کچھ تحفظات ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں ایک سو سال بعد اعلان بالفور کی طرح ایک مرتبہ پھر فلسطینیو ں کو ہی خطرات لاحق ہیں اور فلسطین کا مستقبل خطرے میں ہے کیونکہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ چاہے ماضی میں بالفور کرے یا حال میں ٹرمپ کرے کبھی فلسطین کے حق میں ہو نہیں سکتا ۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے مسلمان و عرب حکومتیں فلسطین کے عوام کے ساتھ ہونے والی اس بد ترین خیانت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور امریکہ کی کاسہ لیسی ترک کر دیں ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان امریکہ کی بیساکھی تو نہیں بن رہا….؟

 کیا پاکستان کو امریکہ کی دوستی سے آج تک کوئی فائدہ حاصل ہوا ہے؟ تحریر: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے