بادشاہت کی تضحیک، ’گوگل مواد ہٹانے پر تیار

نائب وزیر اعظم پراجن جنٹونگ نے کہا کہ انھوں نے گوگل کے نمائندے سے ملاقات کی ہے اور ان سے گوگل سرچ انجن اور یوٹیوب پر پائے جانے والے مواد کے بارے میں شکایت کی ہے

خیال رہے کہ یوٹیوب اب گوگل کا حصہ ہے۔

گوگل نے کہا ہے کہ وہ مواد کے ہٹانے کے بارے میں اپنی موجودہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

خیال رہے کہ تھائی لینڈ میں بادشاہ کی توہین کے لیے سخت قوانین ہیں اور ابھی ملک اپنے بادشاہ بھومی بول ادلیادیج کا سوگ منا رہا ہے۔

مسٹر جنٹونگ نے کہا کہ بادشاہ کی توہین پر مبنی تقریبا 100 مواد گوگل پر 13 اکتوبر کو ان کی موت کے بعد سے ملے ہیں۔

گوگل کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ وہ موجودہ اصول پر کاربند ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘جب سرکاری طور پر ہماری توجہ کسی ایسی چیز پر دلائی جاتی ہے تو ہم اس کی پوری جانچ کے بعد ایسے مواد تک اس ملک میں رسائی بند کر دیتے ہیں۔’

گذشتہ سال جولائی سے دسمبر کے درمیان گوگل کو تھائی لینڈ کی جانب سے اس قسم کی 33 درخواست موصول ہوئی۔

ان میں 1566 منفرد مواد کے متعلق شکایات تھیں جن میں سے 97 فی صد میں یہ پایا گیا کہ وہ حکومت کی تنقید کرتی تھیں۔

گوگل نے کہا ہے کہ اس نے حکومت کی 85 فی صد درخواست کو تسلیم کیا تاہم اس نے پوری تفصیلات ظاہر نہیں کی کہ آیا انھیں آن لائن سے ہٹایا گیا یا پھر اس پر تھائی لینڈ میں پابندی لگا دی گئی۔

خیال رہے کہ گوگل اس قسم کی درخواست پر وقتاً فوقتاً رپورٹ شائع کرتا رہتا ہے جسے وہ ٹرانسپیرنسی رپورٹ کہتا ہے۔

تھائی لینڈ میں راجہ، رانی یا ولی عہد کی بے عزتی، رسوائی اور انھیں دھماکانے کی15 سال تک قید کی سزا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مودی کو یو اے ای کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ سے نواز دیا گیا

ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیراعطم نریندر مودی کو ملک کے سب سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے