انڈیا, میں, انتخابات کے, نتائج کی آمد کا سلسلہ, شروع ہو گیا

انڈیا میں انتخابات کے نتائج کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا

انڈیا: 19 مئی کو آخری مرحلے کے انتخابات کے بعد جمعرات کی صبح سے انڈین پارلیمنٹ کی 542 نشستوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے جاری ہے

 

الیکشن کمیشن کے مطابق لوک سبھا کی 542 نشستوں میں سے بی جے پی 294 نشستوں پر آگے ہے جبکہ مجموعی طور پر 345 نشستوں پر اس کا اتحاد آگے ہے۔
انڈیا میں مرکزی حکومت بنانے کے لیے 272 نشستیں درکار ہیں اور اگر یہ رجحانات برقرار رہے تو بی جے پی کو حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت اپنے بل بوتے پر ہی مل سکتی ہے۔
اس کے برعکس کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو 80 سے زیادہ نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں جن میں سے کانگریس محض 53 نشستوں پر آگے ہے۔
تیسرے نمبر پر ترنمول کانگریس اور وائی ایس آر ہیں جنھیں 24، 24 نشستیں ملی ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی بنارس میں اپنے قریب ترین حریف سے 70 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے آگے ہیں جبکہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی کا ان کے روایتی حلقے امیٹھی میں بی جے پی کی امیدوار سمرتی ایرانی سے سخت مقابلہ چل رہا ہے۔
بہار میں کنہیا کمار اور اداکار شترو گھن سنہا پیچھے ہیں تاہم سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو اپنے حریفوں پر سبقت لیے ہوئے ہیں۔
بی جے پی کو سب سے بڑی کامیابی اتر پردیش ، بہار اور بنگال میں مل رہی ہے۔ وہ مدھیہ پردییش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھی غیر معمولی کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ دلی کی تمام سات نشستوں پر وہ آگے ہے۔
مہاراشٹر میں بھی بی جے پی اور اس کی اتحادی شیو سینا کانگریس سے بہت آگے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کو صرف کیرالہ، تمل ناڈو اور پنجاب میں کامیابی ملتی نظر آرہی ہے۔
جس نوعیت کی برتری ان کی جماعت نے حاصل کی ہے، بی جے پی کی رہنماؤں نہایت خوشی کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ نتائج ایگزٹ پولز میں کی جانے والی پیشن گوئی سے کہیں زیادہ ہے۔
مودی اور ان کے قریب ترین ساتھی اور جماعت کے صدر امت شاہ جماعت کے دفتر اس وقت آئیں گے جب نتائج کے رجحانات کو تصدیق شدہ جیت قرار دے دیا جائے گا جو کہ جمعرات کی شام مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے کے قریب متوقع ہے۔
ووٹ حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ انحصار نریندر مودی اور ان کے جارحانہ انداز کی ساکھ پر ہے۔ بی جے پی اور ان کے سیاسی اتحادی اگر چند نشستیں ہار بھی جائیں تو برتری قائم رکھ سکیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت انڈیا کی اہم مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں انتخابات سے قبل سیاسی اتحاد بنانے میں ناکام رہی ہے جو کہ ان جماعت کی کمزور سیاسی گرفت کی نشانی ہے۔
ن انتخابات میں تقرہباً 60 کروڑ رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے ہیں جو 39 لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں محفوظ ہیں۔ ابتدا میں پوسٹل ووٹوں کی گنتی ہوئی جو بیشتر فوجیوں کے ہوتے ہیں اور اس مرحلے کے بعد الیکٹرانک مشینوں کے ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔
حتمی نتائج کا اعلان مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی شب یا جمعہ کی صبح سے پہلے متوقع نہیں ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ کی مشین سے موصول ہونے والے نتائج کو پرنٹ بیلٹ سے ملانے والی اضافی جانچ پڑتال کا عمل ان میں تاخیر کر سکتا ہے۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال اس سے پہلے بھی تین انڈین عام انتخابات میں کیا جا چکا ہے۔ ان سے وقت اور پیسہ بچتا ہے اور نتائج بھی گھنٹوں میں آ جاتے ہیں۔ انھیں متعارف کروائے جانے سے قبل ووٹوں کی جانچ پڑتال اور گنتی میں تقریباً دو دن لگتے تھے۔
مودی کی قیادت میں دنیا کی اس چھٹی بڑی معیشت کی قومی مجموعی پیداوار میں اضافے کی شرح قدرے کم ہو گئی ہے۔ یہ شرح اس وقت سات فیصد کے قریب ہے اور گذشتہ سال ایک حکومتی رپورٹ لیک ہوئی جس کے مطابق بےروزگاری کی سطح 1970 کی دہائی کے بعد بلند ترین سطح پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

ٹوکیو : سمندروں سے پلاسٹک کا کچرا کم کرنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے