ترکی, جیسے بڑے ملک, کے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا, ہونے سے, صہیونی ادارے بے چینی, کا شکار

ترکی جیسے بڑے ملک کے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونے سے صہیونی ادارے بے چینی کا شکار

استنبول: حماس کی سیاسی بیورو کے سربراہ خالد مشعل نے امریکی انتظامیہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے صدی کی ڈیل کو قبول کرنے کے لیے چند علاقائی ممالک کو لالچ دینے کی کوشش کی ہے

 

خالد مشعل کا صدی کی ڈیل سے متعلق کہنا تھا کہ اسکا مقصد صرف فلسطینی کاز کا خاتمہ ہے۔
مشعل نے یہ بات استنبول کے ضلع ییوب کے بلدیہ ہیڈکوارٹر میں فلسطین کے دوستوں کی جانب سے منعقد کردی ایک ملاقات میں ترکی کے قانون سازوں کے ایک گروپ سے بات چیت میں کہی۔
حماس کے سابق چیف نے کہا کہ کچھ ممالک ترکی اور دوسرے ممالک کے صدی کی ڈیل کے مخالف ہونے سے بے چینی کا شکار ہیں۔
مشعل نے کہا کہ ترکی جیسے بڑے ملک کے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونے سے صہیونی ادارے بے چینی کا شکار ہیں، لہذا اسرائیلی لیڈر ترکی اور اسکی قیادت پر تنقید کو کیسے روک سکتے ہیں۔
انہوں نے تصدیق کی کہ غزہ میں اناضول ایجنسی کے دفتر پر حالیہ اسرائیلی بمباری ترکی کی جانب سے فلسطینیوں کے معاون موقف کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

افغان جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اب پہلے سے زیادہ اہم کردار ہے

افغان جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اب پہلے سے زیادہ اہم کردار ہے

واشنگٹن: ولیم ای ٹوڈ، جنہیں رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے