خیام بن, ابراہیم نیشاپوری, کو عالمی سطح پر ان ,کے 971 ویں یوم پیدائش, پر, خراج تحسین

خیام بن ابراہیم نیشاپوری کو عالمی سطح پر ان کے 971 ویں یوم پیدائش پر خراج تحسین

ان کی رباعیوں کا ترجمہ شاید سب سے زیادہ ہوا ہے اور دنیا کی تقریباً تمام تر بڑی زبانوں میں ہوا ہے۔ اردو میں تو بہت سے لوگوں نے ان کی رباعیوں کا منظوم ترجمہ بھی کیا ہے

 

عمر خیام کی ایک ہزار سال بعد بھی پزیرائی ہو رہی ہے۔ سنہ 1970 میں چاند کے ایک گڑھے کا نام عمر خیام رکھا گیا۔ یہ گڑھا کبھی کبھی زمین سے بھی نظر آتا ہے جبکہ سنہ 1980 میں ایک سیارچے (3095) کو عمر خیام کا نام دیا گیا۔
عمر خیام کے اشعار پر انگریزی کے معروف شاعر یوجین او نیل، اگاتھا کرسٹی اور سٹیون کنگ وغیرہ نے جہاں اپنی تصانیف کے نام رکھے وہیں معروف افسانہ نگار ہیکٹر ہیو منرو نے عمر خیام سے متاثر ہوکر اپنا قلمی نام ہی ‘ساقی’ رکھ لیا۔
بالی وڈ کے سپرسٹار امیتابھ بچن کے والد اور ہندی کے معروف شاعر ہری ونش رائے بچن کی کتاب ‘مدھوشالہ’ (میکدہ) اپنی مثال آپ ہے جس نے نہ صرف انھیں صف اول کاہندی شاعر بنایا بلکہ اس میں بہت سی چیزیں خیام کا محض ترجمہ ہیں۔
عمر خیام پر فلمیں بنی ہیں جبکہ ان کی رباعیات کو مختلف مقامات پر نقل کیا گیا ہے، مغرب ان کے نام پر بہت سے مئے خانے بھی نظر آتے ہیں جو کہ ان کے شراب کے تصور سے بہت ہی دور کی چیز ہیں۔ معرف فلم مغل اعظم میں دلیپ کمار یعنی سلیم کا اجیت یعنی درجن سے ہونے والا وہ مکالمہ آج بھی ذہن نشین ہے۔
خیام کے ہاں شراب کا ذکر سرمستی اور عشق میں ڈوب جانے کی کیفیت کے اظہار کے لیے ہوا ہے لیکن دنیا میں اسے بہت جگہ دوسرے ہی معنوں یعنی مئے نوشی اور وہ بھی بلا نوشی سے تعبیر کیا گيا ہے۔
عمر خیام ایک قسمت پرست عالم تھے جن کے نزدیک دنیا کی بے ثباتی اور اس کی مادی قدرو قیمت ظاہر تھی۔ وہ خود کو حکیم تو کہتے ہیں جس کا کوئی مول نہیں۔ ان کی یہ ربا‏عی ملاحظ فرمائيں جس میں ان کے آبائی پیشے کی جانب بھی اشارہ ہے۔

خیام کہ خیمہ ہای حکمت می دوخت

در کوزہ غم فتادہ ناگاہ بسوخت

مقراض اجل طناب عمرش بہ برید

دلال قضا بہ رائگانش بفروخت

(خیام جو کہ علم و حکمت کے خیمے سیتا تھا وہ غم کے پیالے (بھٹی) میں اچانک گر گیا اور جل گیا۔ موت کی قنیچی نے جب اس کی عمر کی ڈور کاٹی کہ قضا و قدر کے دلال نے اسے بے مول ہی فروخت کر دیا)
آئیے گوگل ڈوڈل کے ساتھ عمرخیام نیشاپور پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔
عمر خیام خراسان کے اپنے زمانے کے مشہور شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ خیام خیمہ سینے والوں کے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے ہم عصر ابو ظہیر الدین بیہقی جو عمر خیام سے ذاتی طور پر واقف تھے انھوں نے جو تفصیلی کوائف پیش کیے اس کے مطابق ان تاریخ پیدائش 18 مئی سنہ 1048 نکلتی ہے۔ انھوں نے اپنے زمانے کے بڑے استاد موفق نیشاپوری سے تعلیم حاصل کی اور 26 سال کی عمر میں بادشاہ سلطان ملک شاہ کے مشیر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد انھیں وزیر نظام المک نے اصفہان مدعو کیا جہاں کی لائبریری سے انھوں نے استفادہ کیا اور اقلیدس اور اپولینیس کے علم الحساب کا بغور مطالعہ شروع کیا اور انھوں نے اس سلسلے میں کئی اہم تصانیف چھوڑیں۔
ریاضی کے میدان میں معکب اور متوازی کے نظریے پر ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ انھیں اقلیدس میں جو اشکالات نظر آئے ان پر عربی زبان میں ایک کتاب تحریر کیا جس کا عنوان ‘رسالہ فی شرح اشکال من مصدرات کتاب اقلیدس’ تھا۔
وہ اپنے زمانے کے علم نجوم کے ماہر تھے لیکن سمرقند کے ان کے ایک شاگرد نظامی عروضی کا کہنا ہے کہ انھیں علم نجوم اور اس کے علم غیب پر یقین نہیں تھا۔ لیکن انھوں نے سلطان ملک شاہ کے کہنے پر اصفہان میں ایک آبزرویٹری (رصدگاہ) قائم کیا۔
ملک شاہ کے کہنے پر انھوں نے جو کیلنڈر تیار کیا اسے جلالی کیلنڈر کہا جاتا ہے اور جو ایک زمانے تک رواج میں رہا اور آج کا ایرانی کلینڈر بھی بہت حد تک اسی پر مبنی ہے۔ جلالی کیلنڈر شمسی کیلنڈر ہے اور سورج کے مختلف برجوں میں داخل ہونے پر شروع ہوتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ رائج انگریزی یا گریگورین کیلنڈر سے زیادہ درست ہے اور اسے آج تک سب سے زیادہ درست کیلنڈر کہا جاتا ہے۔ اس میں 33 سال پر لیپ ایئر آتا ہے جبکہ گریگوین میں ہر چار سال پر اضافی دن والا سال آتا ہے جب فروری 29 دنوں کا ہوتا ہے۔
آج عمر خیام کی شہرت کی واحد وجہ ان کی شاعری ہے جو گاہے بگاہے لوگوں کی زبان پر آ ہی جاتی ہے لیکن ان کو زندہ کرنے کا کارنامہ انگریزی شاعر اور مصنف ایڈورڈ فٹزجیرالڈ کا ہے جنھوں نے سنہ 1859 میں عمرخیام کی رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ پیش کیا اور اس کا عنوان ‘رباعیات آف عمر خیام’ رکھا اور عمر خیام کو فارس کا نجومی شاعر کہا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فارسی کے پروفیسر عراق رضا زیدی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘عمر خیام کی شہرت گرچہ مغرب کی مرہون منت ہے لیکن جس طرح انھیں پیش کیا گيا ہے وہ اصل نہیں ہے۔ ان کی مشرقیت کہیں کھو گئی ہے۔ لہذا اب جب ہم انھیں جان چکے ہیں تو ہمیں انھیں اپنی روایت کے اعتبار سے سمجھنا چاہیے۔ جس طرح شبلی نعمانی یا سید سلیمان ندوی نے انھیں پیش کیا ہے۔’
عمر خیام کی رباعیوں کی تعداد آج ایک ہزار سے دو ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ان میں بہت سی رباعیات دوسروں کی ہیں اور ان کی اصل رباعیات کی تعداد بہت کم ہیں۔ ایرانی مطالعہ کے ماہر جرمنی کے ہنرک شیڈر کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ عمر خیام کے نام کو فارسی ادب کی تاریخ سے ہٹا دینا چاہیے۔
عمر خیام کے اہم ماہر صادق ہدایت کا کہنا ہے قطیعت کے ساتھ 14 رباعیات کو عمر خیام کی رباعیات کہا جا سکتا ہے۔ جبکہ بعض دوسروں نے اس کی تعد 100 تک بتائی ہے جبکہ فروغی نے ان کی تعداد 178 بتائی ہے تو علی دشتی نے محض 36 بتائی ہے۔
بہر حال ان کی چند رباعیاں ملاحظہ فرمائيں:

گویند مرا چو سرباحور خوش است

من می گویم کہ آب انگور خوش است

این نقد بگير و دست ازان نسیہ بدار

کاواز اہل شنیدن از دور خوش است

شوکت بلگرامی نے اس کا منظوم ترجمہ مئے دو آتشہ میں اس طرح پیش کیا ہے

زاہد دیوانے خلد اور حور کے ہیں

عاشق میخوار آب انگور کے ہیں

لے جام شراب، بول واعظ کے نہ سن

چھوڑ ان کا خیال ڈھول یہ دور کے ہیں

بہر حال یہ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں صوفیوں کے یہاں اردو اور فارسی میں بھی بیت اور ربا‏عی کہنے کا رواج رہا ہے۔ عمرخیام کی ایک رباعی یہاں پیش کرتا ہوں جس کی جھلک آپ کو بہت سے اردو اشعار میں نظر آئے گی۔

آورد بہ اضطرابم اول بہ وجود

جز حیرتم از حیات، چیزی نفزود

رفتیم، بہ اکراہ، ندانیم چہ بود

زین آمدن و بودن ورفتن مقصود

(پہلے میں اضطراب کے ساتھ پیدا ہوا اور پوری زندگی میں حیرت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ بہ حالت مجبوری یہاں سے لے جائے گئے اور یہ بھی معلوم نہ سکا کہ آنے، رہنے اور جانے کا مقصد کیا تھا۔
شیخ محمد ابراہیم ذوق کا مندرجہ ذیل شعر اس کی بہت حد تک ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔

لائی حیات، آئے، قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

یہ بھی پڑھیں

باسکٹ بال, کی چیمپئن بننے, والی ٹیم کے جشن میں, فائرنگ سے 2 افراد, زخمی

باسکٹ بال کی چیمپئن بننے والی ٹیم کے جشن میں فائرنگ سے 2 افراد زخمی

ٹورنٹو: کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو بھی ٹورنٹو ریپٹرز کی پریڈ میں اسٹیج پر موجود تھے۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے