جائزہ لیں, کہ عافیہ, صدیقی کی سزا پاکستان, میں پوری, ہو سکتی ہے

جائزہ لیں کہ عافیہ صدیقی کی سزا پاکستان میں پوری ہو سکتی ہے

اسلام آباد: جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئے کہ عافیہ کا معاملہ دیگر پاکستانیوں کے ساتھ اٹھانے سے شاید کچھ ہو جائےجس کے بعد عدالت نے کیس کو بیرون ملک قید پاکستانیوں کے کیس سے منسلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

گذشتہ ہفتے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ امریکی جیل میں دہشت گردی کے الزام میں سزا بھُگتنے والی پاکستانی نژاد ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کیلئے آمادگی ظاہر کر دی۔
شاہ محمود قریشی کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر تحریری جواب جمع کرایا گیا۔ اس تحریری جواب میں بتایا گیا تھا کہ حکومت پاکستان امریکی حکام کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں مسلسل رابطے میں ہیں اور اُن کی واپسی کا معاملہ امریکی حکومت سے اُٹھا رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کیلئے امریکی حکام کو درخواست دے دی ہے۔
چند روز قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ترجمان دفترِ خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان نہیں آنا چاہتیں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ اور ڈاکٹرشکیل آفریدی کے حوالے سے بات ہو سکتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے خود سے منسوب اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر عافیہ سے متعلق منسوب بیان کی تردید کی تھی۔
30 مارچ 2003 کو عافیہ صدیقی کو ان کے تین کمسن بچوں سمیت کراچی سے غائب کرکے امریکا کے حوالے کردیا گیا تھا اور اب عافیہ کوامریکی قید میں 15 سال بیت چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت بےنقاب ہوچکی

چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت بےنقاب ہوچکی

اسلام آباد: مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر ظلم کے شکار افراد کے عالمی دن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے