فرانس نقاب پر پابندی میں مزید ایک قدم آگے بڑھ گیا

فرانس نقاب پر پابندی میں مزید ایک قدم آگے بڑھ گیا

فرانس مسلمان خواتین کے پردے پر پابندی سے متعلق اقدامات میں مزید ایک قدم آگے بڑھ گیا۔

فرانس کی سینیٹ نے بچوں کو اسکول لانے والی ماؤں کے اسکارف پہننے پر بھی پابندی کا قانون منظور کر لیا۔

فرانس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں مسترد ہونے والے بل کو سینیٹ نے 186 ووٹوں سے پاس کیا جب کہ بل کی مخالفت میں 100 ووٹ پڑے۔ 159 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لیے آنے والی خواتین کے اسکارف پر پابندی سے متعلق بل دائیں بازو کی اسلام مخالف ریپبلکنز پارٹی نے پیش کیا۔

ریپبلکنز پارٹی کے سینیٹر جیکلین اسٹیچ برینیو کا کہنا ہے کہ موجودہ ترمیم پہلے سے موجود نقاب پر پابندی کے قانون میں موجود سقم اور سیکیولرازم کے بنیادی اصولوں کے تحفظات کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

فرانس کی حکومت نے خود کو اس بل سے علیحدہ رکھتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپنے ممبران کی مدد سے اس بل کو مسترد کروا دیں گے۔

وزیر تعلیم جین مائیکل بلنکر کا کہنا ہے کہ یہ بل کاؤنسل آف اسٹیٹ کے فیصلے سے متصادم ہے اور اسکول دوروں کے حوالے سے کئی مسائل کو جنم دیگا۔

مسیحی قبرستان میں قبروں پر نصب صلیب توڑے گئےہیں

یہ بھی پڑھیں

باسکٹ بال, کی چیمپئن بننے, والی ٹیم کے جشن میں, فائرنگ سے 2 افراد, زخمی

باسکٹ بال کی چیمپئن بننے والی ٹیم کے جشن میں فائرنگ سے 2 افراد زخمی

ٹورنٹو: کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو بھی ٹورنٹو ریپٹرز کی پریڈ میں اسٹیج پر موجود تھے۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے