تہران کے, جوہری پروگرام کو روکنے, کی صورت میں ایران پر, لگی بین الاقوامی, پابندیوں میں, نرمی کردی, گئی تھی

تہران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی صورت میں ایران پر لگی بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کردی گئی تھی

بیجنگ: ایرانی وزیر خارجہ سے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ جوائنٹ کمپری ہینشن پلان آف ایکشن یا جے سی پی او اے کے نام سے معروف جوہری معاہدےکو محفوظ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں

ایران نے چین روس،ج جرمنی، برطانیہ، فرانس اور امریکا کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے نتیجے میں تہران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی صورت میں ایران پر لگی بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کردی گئی تھی۔
گزشتہ برس امریکی صدر سے اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔
جواد ظریف کا کہنا تھا کہ اب تک عالمی برادری نے کوئی اقدام کرنے کے بجائے صرف بیانات ہی دیے ہیں۔
اگر عالمی برادری، جوہری معاہدے کے اراکین ممالک اور ہمارے دوست چین اور روس اس کو برقرار رکھنا چاہیں تو اس کے لیے ٹھوس اقدام اٹھانا ہوں گے تا کہ ایرانی عوام اس کےثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایران کی انتہائی غلط اور دھوکہ دہی پر مبنی کوریج کرنے پر میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا دوسری جانب ٹرمپ کی کابینہ میں ہی ایران پر دباؤ ڈالنے کی شدت کے حوالے تنازع کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ صرف چین اور روس نے ایران کی حمایت اور جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے میں تعاون کیا جبکہ دیگر فریقین پر انہوں نے وقت پر ساتھ چھوڑ جانے کا الزام لگایا۔
ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا کے ساتھ ’خطرناک‘ کشیدگی کا انتباہ دیتے ہوئے چین اور روس پر زور دیا ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

ٹوکیو : سمندروں سے پلاسٹک کا کچرا کم کرنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے