پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں، وزیراعظم نواز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتا ہوں جب کہ اب بہتر ہوگا کہ عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی کر لیا جائے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتا ہوں اور آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور مکمل شفافیت پریقین رکھتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی عدالت تو پے در پے فیصلے صادر کررہی ہے لہذا اب بہتر ہوگا کہ عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی کر لیا جائے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر دو مرتبہ قوم سے خطاب اور قومی اسمبلی میں تفصیلی موقف پیش کرچکے ہیں، پہلے انہوں نے اپوزیشن کے مطالبے سے پہلے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیشن کا اعلان کیا تھا لیکن مطالبہ آیا کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں حاضر سروس ججوں پر مشتمل کمیشن بنایا جائے لہذا جب مطالبہ تسلیم کیا تو ٹی او آرز کا تنازعہ شروع کرکے شفاف اور بے لاگ تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں واضح برتری کے باوجود ٹی او آرز کمیٹی میں اپوزیشن کو برابر کی نمائندگی دی لیکن ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود ٹی او آرز پر اتفاق رائے نہ ہو سکا جب کہ انکوائری بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا مگر اپوزیشن نے متوازی بل پیش کردیا۔

 واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس پر جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کی درخواست خارج کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کیوں نہ پورے ایڈووکیٹ جنرل آفس کوہی معطل کردیاجائے

کیوں نہ پورے ایڈووکیٹ جنرل آفس کوہی معطل کردیاجائے

اسلام آباد :خیبر پختونخوا حکومت پر5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے درخواست خارج کردی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے