ایران, اور, امریکا کے درمیان آمنا, سامنا کسی فوجی, مڈ بھیڑ کے بجائے, دراصل عزم کا, امتحان ہے

ایران اور امریکا کے درمیان آمنا سامنا کسی فوجی مڈ بھیڑ کے بجائے دراصل عزم کا امتحان ہے

تہران: سیّد علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ جنگ اسکے مفاد میں نہیں، جب تک امریکا اپنا رویہ نہیں بدلے گا اسکے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں

امریکا نے ایران سے درپیش ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے لڑاکا طیارے اور طیارہ بردار بحری بیڑے کو مشرقِ اوسط میں بھیجا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف تند وتیز بیانات جاری کر رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ان جنگی تیاریوں کے برعکس کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ تو ان کی کوئی جنگ نہیں ہونے جارہی ہے۔

سپریم لیڈر نے ملک کے اعلیٰ افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان آمنا سامنا کسی فوجی مڈ بھیڑ کے بجائے دراصل عزم کا امتحان ہے۔
یہ ٹاکرا کوئی فوجی نہیں کیونکہ کوئی جنگ تو ہو نہیں رہی ہے۔ نہ تو ہم اور نہ وہ ( امریکی) جنگ چاہتے ہیں، وہ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ یہ جنگ ان کے مفاد میں نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

حکومتی اتحادی جماعت کی علیحدگی کے بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے

حکومتی اتحادی جماعت کی علیحدگی کے بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے

روم: جوزیپے کونٹے نے سینٹ کے ارکان کو بتایا کہ حکمران اتحاد میں شامل وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے