نواز شریف کو نوٹس جاری، دھرنا روکنے کی درخواست مسترد

ادھر عدالت نے تحریک انصاف کا دھرنا روکنے اور پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے سے متعلق درخواستیں بھی مسترد کر دی ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے ابتدائی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس سال اپریل میں وزیر اعظم کا نام پاناما لیکس میں آیا تھا جس کے بعد اُنھوں نے دو مرتبہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کا کہا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ تمام اداروں سے مایوس ہوکر اُن کی جماعت انصاف کے لیے سپریم کورٹ میں آئی ہے۔

ان درخواستوں کی مختصر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے پانامالیکس میں جتنے بھی پاکستانیوں کے نام آئے ہیں اُن سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔

جمعرات کو ہی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے کے لیے کمیشن بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے سے متعلق جمہوری وطن پارٹی کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور عدالت کا کہنا تھا کہ عدالتی کمیشن بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے طارق اسد نامی ایک وکیل کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا جس میں دو نومبر کو اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے مجوزہ دھرنے کو رکوانے کی استدعا کی گئی تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ عدالتیں سیاسی معاملات میں نہیں پڑتیں اور شہر میں امن وامان قائم رکھنا حکومت کا کام ہے تاہم اگر حکومت بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہی تو پھر سپریم کورٹ اس پر کارروائی کرنے کے بارے میں سوچ بچار کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ تحریکِ انصاف نے پاناما لیکس کے معاملے پر ہی دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے علاوہ ان کی جماعت کے دیگر رہنما اور متعدد وفاقی وزرا بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔

سماعت ختم ہونے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کا اختیار نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت احتساب کی جانب پہلا قدم ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ احتجاج اُن کا جمہوری حق ہے اور اگر حکومت نے تشدد کا راستہ اپنایا تو پھر پاکستان تحریک انصاف اپنا لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

اسی موقع پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ وزیر اعظم ہر فورم پر احتساب کے لیے تیار ہیں جبکہ عمران خان شوکت خانم ہسپتال میں لوگوں کی طرف سے 70 لاکھ سے زائد کی رقم جو زکوۃ اور خیرات کی مد میں دی گئی تھی اس کو بیرون ملک سرمایہ کاری کے لیے حرچ کرنے سے متعلق جواب دینے کو تیار نہیں ہیں۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں پانامالیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس اعجاز احسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن میاں نواز شریف کی نااہلی کی درخواستوں کی سماعت اگلے ماہ کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں

وفاقی حکومت کی مالی کفایت شعاری پالیسی

وفاقی حکومت کی مالی کفایت شعاری پالیسی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی کفایت شعاری پالیسی کے تحت رواں مالی سال2019-20 کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے