گاندھی, کو اس لیے مارا, کہ تقسیم ہند کے, دوران گاندھی انھیں, مسلم, نواز نظر آ رہے, تھے

گاندھی کو اس لیے مارا کہ تقسیم ہند کے دوران گاندھی انھیں مسلم نواز نظر آ رہے تھے

انڈیا : کمل ہاسن نے چند ماہ قبل اپنی سیاسی پارٹی مکّل نیدھی مایم (ایم این ایم) لانچ کی ہے۔ انھوں تمل زبان میں تقریر کی اور جو لفظ استعمال کیا تھا اس کا ترجمہ ’انتہا پسند‘ ہے نہ کہ ’دہشت گرد‘ لیکن ہندی اور انگریزی میڈیا نے دہشت گرد کا لفظ استعمال کیا ہے

بہرحال ان کے بیان نے انڈیا کے سیاسی ماحول میں ایک طوفان برپا کر دیا اور سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں کئی ٹرینڈز گردش کر رہے ہیں جن میں ‘کمل ہاسن’، ‘گوڈسے’، ‘ہندوسافٹ ٹارگٹ’ وغیرہ اہم ہیں۔
انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی اور ان کی اتحادی جماعتوں نے کمل ہاسن کے اس بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ کمل ہاسن کی انتخابی مہم میں مزید شرکت پر پابندی عائد کرے اور ان کی پارٹی کی منظوری ختم کر دے۔
انڈین میڈیا کے مطابق بی جے پی رہنما اشونی اپادھیا نے ان کے خلاف شکایت درج کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا بیان ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔
کمل ہاسن کی پارٹی پارلیمانی انتخابات میں شامل ہے۔ لیکن یہ ریلی ریاستی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں تھی جہاں پارلیمانی انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے میں 19 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔
کمل ہاسن نے بیان میں کہا تھا ‘میں یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہا ہوں کیونکہ میں ایک مسلم اکثریتی علاقے میں ہوں۔ میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ یہاں گاندھی کا مجسمہ ہے۔ آزاد ہند کا پہلا انتہا پسند ہندو تھا اور اس کا نام ناتھو رام گوڈسے تھا۔ یہاں سے انتہا پسندی شروع ہوتی ہے۔ اچھے ہندوستانی مساوات چاہتے ہیں۔ اور ترنگے (انڈیا کے پرچم) میں تینوں رنگوں کو ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ میں ایک اچھا ہندوستانی ہوں اور یہ میں فخر سے کہتا ہوں۔
شیوسینا کے رہنما اور رکن پارلیمان سنجے راوت کا کہنا ہے کہ ‘اگر ہندوؤں کے مذہب کو دہشت گردی سے جوڑا جائے گا تو ہندو برداشت نہیں کریں گے۔’
جبکہ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے کہا کہ ادکار کمل ہاسن کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کے بیانیے میں پھنس گئے ہیں اور اقلیتوں کی آسودگی کے لیے ہندوؤں کی خراب تصویر پیش کر رہے ہیں۔

‘انھیں قاتل اور دہشت گرد کا فرق نہیں معلوم۔’

انڈیا کے معروف تاریخ داں ہربنس مکھیا نےکہا کہ ‘یہ تاریخی بیانیے کی بات نہیں ہے۔ گاندھی جی کا قتل کرنے والے نے قتل کے بعد فخر سے اپنے ہندو ہونے کا اعلان کیا تھا۔ تو پھر اس میں آپ تاریخ کہاں تلاش کر رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ وہ ہندو ہے اس لیے اس نے گاندھی جی کو مارا ہے۔’
انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا ‘ان کے لیے صرف مسلمان ہی دہشت گرد ہوتا ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو وہ بی جے پی کے لیے دہشت گرد ہو جاتا اور چونکہ وہ مسلمان نہیں اس لیے وہ دہشتگرد ہو نہیں سکتا۔ چاہے وہ مارتے پھریں، گجرات میں ماریں یا مالیگاؤں میں، وہ دہشت گرد نہیں ہو سکتے وہ سارے سادھو سنت ہیں۔
سنگھ پریوار اور بی جے پی والوں کا کہنا ہے کہ ہندو دہشت گرد نہیں ہو سکتا اور انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس کا برملا اظہار کیا ہے۔
بہر حال تمل ناڈو کی کانگریس پارٹی نے کمل ہاسن کے بیان کی حمایت کی ہے اور وہاں کے ریاستی صدر کے ایس الاگری نے کہا ہے کہ وہ کمل ہاسن کے بیان سے ‘سو فیصد نہیں بلکہ ہزار فیصد متفق ہیں۔’
اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مقامی پارٹی ڈراوڈ کزگم (ڈی کے) کے رہنما کے ویرامنی نے کہا ہے کہ ‘ کمل ہاسن کے بیان میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ گوڈسے کی تربیت آر ایس ایس نے کی۔ وہی پہلے اور وہی آخری (دہشت گرد) ہیں۔’
تاریخ بتاتی ہے کہ آزاد ہندوستان میں 30 جنوری سنہ 1948 کی صبح ناتھو رام گوڈسے نے موہن داس کرم چند گاندھی کے سینے میں تین گولیاں داغ دیں۔ وہ ہندو مہاسبھا کے رکن تھے جس کی رہنمائی اس وقت وی ڈی ساورکر کر رہے تھے۔
انھوں نے گاندھی کو اس لیے مارا کہ تقسیم ہند کے دوران گاندھی انھیں مسلم نواز نظر آ رہے تھے۔
گاندھی کے بعض اہل خانہ موت کی سزا کو معاف کروانا چاہتے تھے لیکن انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے اس قسم کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ گوڈسے کا تعلق مغربی ریاست مہاراشٹر سے تھا اور وہ ہندو برہمن تھے۔
سماجی کارکن اور کمیونسٹ پارٹی (ایم ایل) کی اہم رکن کویتا کرشنن نے ٹویٹ کیا کہ ‘جی ہاں۔ کمل ہاسن نے جو کہا وہ اپنے آپ میں واضح ہے۔ گوڈسے انڈیا کا پہلا دہشت گرد تھا۔ گاندھی کا قتل پہلا دہشت گردی کا واقعہ تھا۔ آپ کبھی بھی کسی بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنما کو یہ کہتے نہیں سنیں گے۔’
سویڈن میں ‘پیس اینڈ کنفلیکٹ ریسرچ’ کے پروفیسر اشوک سوائيں نے کہا کہ ‘میں کمل ہاسن کے بیان سے پوری طرح متفق ہوں۔ مزید لوگوں کو سامنے آ کر اس بیانیے کی تردید کرنی چاہیے کہ ہندو کبھی تشدد نہیں کر سکتے۔
پروفیسر اشوک نے مزید کہا کہ ‘تین سال قبل جب میں نے ایک مضمون لکھا تھا کہ ‘زعفرانی دہشت گردی کوئی کہانی نہیں’ تو مجھے بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔’
سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ اداکار وویک اوبرائے نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’ڈیئرکمل سر، آپ عظیم فنکار ہیں۔ جس طرح آرٹ کا کوئی مذہب نہیں اسی طرح دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ گوڈسے دہشت گرد تھا لیکن آپ نے اسے ہندو کے ساتھ مخصوص کیوں کیا؟ کیا اس لیے کہ آپ مسلم اکثریتی علاقے میں ووٹ کے طلبگار تھے؟
‘اگر آپ نے کمل ہاسن کی پوری تقریر نہیں سنی تو اس پر کوئی بیان نہ دیں۔ آپ کو انھیں قومی سالمیت کا سبق پڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ کسی سے بھی زیادہ اپنی زندگی میں اس پر عمل پیرا ہیں۔ ہم انھیں جانتے ہیں اور ہم انھیں چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مقبوضہ کشمیر میں مظالم، کینیڈا کا بھارتی فوجیوں کو ویزہ دینے سے صاف انکار

مقبوضہ کشمیر میں مظالم، کینیڈا کا بھارتی فوجیوں کو ویزہ دینے سے صاف انکار

اوٹاوا: مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے بعد کینیڈا نے سابق بھارتی فوجی افسران …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے