پی آئی اے ,کا ہیڈ آفس, کراچی سے اسلام آباد, منتقل کرنے کے خلاف, قرارداد کثرت رائے سے, منظور

پی آئی اے کا ہیڈ آفس کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا کہ حکومت کا پی آئی اے کا ہیڈکوارٹر منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ قرارداد کی حمایت کی، انہوں نے حیرانی کا اظہار کیا کہ حکومت قرار داد کی مخالفت کیوں کررہی ہے جبکہ ان کا پی آئی اے ہیڈکوارٹر منتقل کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
’حکومت ہر سروس اور اتھارٹی کو اسلام آباد منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے‘۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ چند دن قبل سینیٹر مشاہداللہ خان کی سربراہی میں ایوی ایشن کمیٹی کے اجلاس میں اس اقدام سے متعلق بات چیت کی گئی تھی تاکہ واضح ہو کہ حقیقت میں کیا ہورہا ہے اور وزیر اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے تیسری مرتبہ بھی غیرحاضر رہے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوتا، حکومت 70 حکام کو راتوں رات منتقل کیوں کررہی ہے۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی خفیہ ایجنڈا ہے، اگر حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی وضاحت موجود ہے تو اس پر آواز اٹھانے کا یہ صحیح وقت ہے‘۔
حکومت سیاسی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے معاشی حب کو معذور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

اسلام آباد: اب اس معاملے پر وفاقی حکومت بھی میدان میں آ گئی ہے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے