شاہ رخ جتوئی اور, سراج تالپور, کی سزائے موت ,کو عمر قید, میں تبدیل

شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے مجرموں کی اپیلوں کا فیصلہ سناتے ہوئے کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا

عدالت عالیہ نے کیسز میں نامزد دیگر 2 مجرموں سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔
20 سالہ نوجوان شاہ زیب کو دسمبر 2012 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔
اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مقدمے کا از خود نوٹس لیا تھا جس کے بعد پولیس نے مجرموں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا۔
بعد ازاں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 30 جون 2013 کو شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت جبکہ سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
مجرموں نے 2013 میں ہی سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
جس پر سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اپیلوں پر فیصلہ سنایا تھا اور مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے اور سیشن کورٹ میں مقدمہ دوبارہ سننے کا حکم دیا۔
13 مئی 2019 کو محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عالیہ نے 2 مجرموں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جبکہ دیگر 2 مجرموں کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھیں

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

کراچی: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے