پیمرا کو, مزید لائسنس جاری, کرنے سے, پہلے ملک, کے نشریاتی, نظام کو ’ڈیجیٹائز‘, کرنا پڑے گا

پیمرا کو مزید لائسنس جاری کرنے سے پہلے ملک کے نشریاتی نظام کو ’ڈیجیٹائز‘ کرنا پڑے گا

اسلام آباد: عدالت نے پیمرا کو یہ حکم پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر دیا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ پیمرا کے پاس 80 سے زیادہ چینلز چلانے کی صلاحیت نہیں ہے جبکہ اس وقت ملک بھر میں لائسنس یافتہ چینلز کی تعداد 119 ہے

پیمرا نے حال ہی میں 38 نئے سیٹلائٹ چینلز کو لائسنس جاری کیے ہیں جن میں سے سات نیوز چینلز ہیں جبکہ باقی انٹرٹینمنٹ اور انفوٹینمنٹ کے ہیں۔
ایک نیوز چینل کو لائسنس 28 کروڑ 35 لاکھ روپے میں جاری کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیمرا کو مزید لائسنس جاری کرنے سے پہلے ملک کے نشریاتی نظام کو ’ڈیجیٹائز‘ کرنا پڑے گا۔
ان کے خیال میں اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ٹی وی انڈسٹری جمود کا شکار رہے گی اور اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ پاکستان سے الیکٹرانک میڈیا کی صنعت ختم ہو جائے گی۔
پاکستان میں کیبل سسٹم سنہ 2002 سے چل رہا ہے اور اس میں بیک وقت صرف 72 سے 78 چینلز دکھانے کی صلاحیت ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ انڈیا میں بھی سنہ 2009 میں کیبل سسٹم تھا لیکن اُنھوں نے سنہ 2014 میں اس سسٹم کو ڈیجیٹل کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ایک وقت میں کئی سو چینلز بھی دکھا سکتے ہیں۔
اسد بیگ کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس پاکستان میں کیبل آپریٹرز ٹی وی چینلز کے مالکان کو نہ صرف رقم ادا نہیں کرتے بلکہ اکثر اوقات مالکان اپنے چینلز کو پہلے نمبروں پر لانے کے لیے کیبل آپریٹرز کو پیسے بھی ادا کرتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ملک میں ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) ٹیکنالوجی بھی آنے والی ہے لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی صرف سسٹم کو ہی ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ایک عرصہ درکار ہوگا۔
صحافی اور تجزیہ نگار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ بعض ٹی وی مالکان کے مفادات اسی میں ہیں کہ ملک میں ٹی وی چینلز کی تعداد میں اضافہ نہ کیا جائے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں ان کا کاروبار متاثر ہوگا۔
قانون میں پیمرا پر کوئی قدغن نہیں ہے کہ وہ جتنے مرضی لائسنس جاری کرے۔ اُنھوں نے کہا کہ پیمرا کو مارکیٹ کو دیکتھے ہوئے چیزوں کو ریگولیٹ کرنا ہوگا۔
طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک طرف پاکستان میں میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار ہے جبکہ دوسری طرف کون ہیں وہ لوگ جو ان حالات میں نئے ٹی وی چینلز کے لائسنس لے کر اپنی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
پاکستان میں جہاں پر صحافیوں اور دیگر ٹیکنیکل سٹاف کو مختلف ٹی وی چینلز سے نکالا جا رہا ہے یا اُن کی تنخواہوں کو کم کیا جارہا ہے تو ایسے حالات میں ایسے افراد کی چھان بین کی بھی ضرورت ہے جنھیں لائسنس جاری کیا گیا ہے۔
طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگر ایک طرف معاشی صورت حال تسلی بخش نہیں تھی تو دوسری طرف کچھ ریاستی اداروں کی طرف سے ان صحافیوں پر، ان چینلز پر یا ان پروگراموں پر ضرب لگائی گئی ہے جن سے ریاست کو خوف اور تکلیف ہوتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ملک کی میڈیا انڈسٹری کو جو خطرات لاحق ہوں گے اس میں جو اچھے پروگرام ہیں وہ بند ہوتے جائیں گے اور ان کی جگہ ایسے ’گھس بیٹھیے‘ آجائیں گے جن کے پاس لاًئسنس بھی ہوں گے مگر ان کے ڈانڈے کہیں اور ملتے ہوں گے اور یہی لوگ مارکیٹ کو کنٹرول کریں گے کیونکہ طلعت حسین کے بقول ریاستی اداروں کے پاس فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔
طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگر عدالتیں آج پیمرا کو کام کرنے سے روک رہی ہیں تو پھر کل یہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو بھی ریگولیٹ کرنے میں لگ جائیں گے جسں سے ملک کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم کا کہنا تھا کہ چینلز کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے اور محض اس چیز کو بنیاد بنا کر لائسنس جاری کرنے کا عمل نہیں رکنا چاہیے کہ پیمرا اس کو ریگولیٹ نہیں کرسکتا۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر پیمرا کی طرف سے کیبل سسٹم کو ڈیجیٹائز نہ کیا گیا تو اس انڈسٹری میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوگی۔
ابصار عالم کا کہنا تھا کہ کیبل سسٹم کو ڈیجیٹائز کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستان نے اس بارے میں بین الاقوامی معاہدے پر دستخط بھی کیے ہوئے ہیں اور پاکستان میں پہلے ہی اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے میں تاخیر کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

اسلام آباد: ڈی ایچ او آفس اسلام آباد کی رپورٹ کے گذشتہ روز اسلام آباد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے