سعید غنی, اور میئر کراچی, وسیم اختر پر برہمی کا, اظہار

سعید غنی اور میئر کراچی وسیم اختر پر برہمی کا اظہار

کراچی: سپریم کورٹ نے رہائشی علاقوں سے کمرشل سرگرمیوں کا خاتمہ کرکے شہر کو اصل ماسٹر پلان کے تحت بحالی کا حکم دے رکھا ہے

تجاوزات اور ملٹری لینڈ پر کمرشل سرگرمیوں کا معاملہ سامنے آیا تو سیکریٹری دفاع نے عدالتی حکم پر رپورٹ پیش کی، جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کردیا
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ یہ رپورٹ غیر اطمینان بخش اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صرف ایک نقطے پر عمل نہیں کیا۔
جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ مجھے سیکریٹری دفاع بتائیں، آرڈر پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ میں کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق معاملے زیر غور آیا اس موقع پر تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق بیان دینے پر سپریم کورٹ نے وزیر بلدیات سعید غنی اور مئیر کراچی پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کہاں ہیں وہ بلدیاتی وزیر اور میئر کراچی جو کہتے پھر رہے ہیں ہم ایک بھی عمارت نہیں گرائیں گے، کیا انہوں نے عدالت سے جنگ لڑنی ہے؟
ہم پہلے سب کو سن لیں پھر دیکھتے ہیں ان کو کہاں بھیجنا ہے، پورے شہر میں لینڈ مافیا منہ چڑھا رہا ہے اور یہ ایسی باتیں کررہے ہیں۔
جسٹس گلزار احمد نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔
حکومت چاہے تو 5 منٹ میں سب بلڈوزر پہنچ جائیں گے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فوج کو کیا اختیار ہے کہ سرکاری زمین الاٹ کرے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کا فوج کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، ہمیں پتہ نہیں، نہ ہی اس کا حساب کتاب ہے۔
عدالت نے سیکریٹری دفاع کو عدالتی حکم پر عمل درآمد کا ایک مرتبہ پھر حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

کراچی: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے