لگاتار چیمپیئنز لیگ, کا دوسرا فائنل کھیلنے, کی امیدوں پر پانی, پھیرنے کی, پوری کوشش

لگاتار چیمپیئنز لیگ کا دوسرا فائنل کھیلنے کی امیدوں پر پانی پھیرنے کی پوری کوشش

چیمپیئنز لیگ کا سیمی فائنل دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ دونوں میچ مدِمقابل ٹیموں کے ہوم گراؤنڈز پر کھیلے جاتے ہیں

پہلا میچ بارسلونا کے ہوم گراؤنڈ نوئی کیمپ میں کھیلا گیا جہاں میزبان ٹیم نے لیورپول کو 3-0 سے شکست دے کر ان کی لگاتار چیمپیئنز لیگ کا دوسرا فائنل کھیلنے کی امیدوں پر پانی پھیرنے کی پوری کوشش کی۔
پھر آئی منگل کی شب اور سیمی فائنل کا دوسرا حصہ۔ اس وقت لیورپول کے اپنے مداح بھی شاید ان کی کامیابی کی امید نہ رکھتے مگر جیسے بالی وڈ فلم ‘لگان’ کے عامر خان میدان میں آئے اور لیورپول نے چار متواتر گول کر کے میچ جیت لیا۔
بارسلونا کی ٹیم کوئی گول نہ کر سکی اور یوں لیورپول نے مجموعی طور پر 4-3 کی سکور لائن سے کامیابی حاصل کر کے فائنل میں جگہ بنا لی۔
سنہ 2015 کے بعد سے بارسلونا چیمپیئنز لیگ کے فائنل تک نہیں پہنچی ہے جبکہ لیورپول مانچسٹر یونائیٹڈ کے بعد لگاتار دوسرے برس چیمپیئنز لیگ کا فائنل کھیلنے والی دوسری برطانوی ٹیم بن گئی ہے۔
لیورپول کے ہوم گراؤنڈ این فیلڈ میں کھیلے گئے اس سیمی فائنل کی تاریخی اعتبار سے خاص بات یہ بھی ہے کہ 1986 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی ٹیم نے اپنے مخالف کی تین گول کی برتری ختم کر کے فائنل تک رسائی حاصل کی ہو۔
اس سے قبل 1986 میں ایسا کرنے والی ٹیم خود بارسلونا تھی جب انھوں نے گوٹنبرگ کو ہرا دیا تھا۔
گذشتہ سال بارسلونا کو کوارٹر فائنل مرحلے میں بھی اطالوی ٹیم روما کے ہاتھوں 3-0 سے شکست ہوئی تھی۔
سواریز، جو کہ لیورپول کو چھوڑ کر اب بارسلونا کے لیے کھیل رہے ہیں، اپنے پرانے مداحوں کے گلے شکوے ہی سنتے رہے۔
سواریز نے میچ کے بعد کہا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہم کوئی سکول کے لڑکے کھیل رہے ہیں۔
سیمی فائنل کے پہلے میچ میں جب سواریز نے اپنی پرانی ٹیم کے خلاف گول کر کے جشن منایا تو ان پر کچھ عرصہ پہلے تک جان چھڑکنے والے مداحوں کو بالکل اچھا نہیں لگا۔
سواریز نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بار لیورپول کے خلاف گول کرکے جشن نہیں منائیں گے مگر انھیں اس کا موقع ہی نہیں ملا۔
انھوں نے یہ کیسے کیا؟ لیورپول کے پاس خوداعتمادی، جیت کی بھوک، مانگ، اور جذبہ سب تھا۔۔۔ اور ساتھ میں گراؤنڈ میں ایسے شائقین جو پہلے ہی لمحے سے ان کو جتانا چاہتے تھے۔
لیورپول نے پہلے ہی لمحے سے بہت ہی درست ارادہ ظاہر کیا۔ اگر وہ ہارنے والے تھے تو انھوں نے پوری کوشش کر کے جانا تھا۔ آپ سوچیں سرگیو بزکٹس، لوئس سواریز، جرارڈ پیق، اور دنیا کے بہترین کھلاڑی میسی سب تھے مگر بارسلونا انھیں ہینڈل نہیں کر سکے۔
این فیلڈ کی یورپی شاموں میں) یہ اگر بہترین نہیں تو کم از کم بہترین شاموں میں سے ایک تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ لیورپول کو اس سٹیڈیم پر کوئی نہیں ہرا سکتا۔‘
میں ان کے حریف کلب کے لیے کھیلتا تھا مگر آپ اس کلب کی کارکردگی اور اس کے مداحوں کی عزت کرنے سے گریز نہیں کر سکتے۔ ہم میسی کو فائنل میں دیکھنے آئے تھے مگر لیورپول نے وہ ان کے ہاتھوں سے لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں

امام الحق نے نیا ریکارڈ اپنے نام کر لیا

امام الحق نے نیا ریکارڈ اپنے نام کر لیا

برسٹل کے ون ڈے میچ میں امام الحق نے قومی ٹیم کی دو وکٹیں جلد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے