واقعے, کے تین سال, کے بعد صوبائی, پولیس نے تسلیم کیا کہ, ان لڑکیوں, کو قتل, کیا گیا ہے

واقعے کے تین سال کے بعد صوبائی پولیس نے تسلیم کیا کہ ان لڑکیوں کو قتل کیا گیا ہے

خیبر پختونخوا: سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لڑکیوں کے ڈانس کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایک کمیشن بھی تشکیل دیا تھا جس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے بھی شامل تھے

افضل کوہستانی کے چھوٹے بھائی بن یاسر کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بھائی افضل کوہستانی کے علاوہ چار لڑکیوں کے قتل کی تحقیقات بھی ازسر نو کروائی جائیں اور ان مقدمات کی تفتیش کو اسلام آباد منتقل کر کے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے
خیبر پختونخوا پولیس نے ان کی اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے جو پولیس اہلکار دیے ہوئے ہیں وہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔
افضل کوہستانی کے قتل کے مقدمے میں ایبٹ آباد پولیس نے ان کے بھانجے خضر رحمان کو بھی گرفتار کر لیا ہے جبکہ وہ اس مقدمے میں مدعی تھا لیکن اس کے برعکس بن یاسر کے بقول پولیس نے اس مقدمے کے نامزد ملزم عبدل حمید کو تمام تر معلومات ہونے کے باوجود ابھی تک گرفتار نہیں کیا۔
افضل کوہستانی کے بھائی کا کہنا تھا کہ ان کے مخالفین نے ایک روز پہلے بھی ان کے آبائی گھر پر حملہ کیا ہے لیکن پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ ایبٹ آباد کی پولیس نے شمس الدین کے قتل کا مقدمہ بھی ان کے خاندان کے تین افراد کے خلاف درج کیا ہے۔ واضح رہے کہ شمس الدین کو افضل کوہستانی کے تین بھائیوں کے قتل کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی تاہم کچھ عرصہ پہلے ان کی پشاور ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کی تھی۔
خاندان کے 45 افراد کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت کی طرف سے ان کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
نھوں نے کہا کہ وہ اور ان کے خاندان کے 44 افراد سکیورٹی کی وجہ سے ایک ہی گھر میں رہنے پر مجبور ہیں اور وہ روزگار کے لیے گھر سے باہر بھی نہیں جا سکتے۔
خیبر پختونخوا کی پولیس کے حکام یہ دعویٰ کرتے رہے کہ شادی پر ڈانس کرنے والی چار لڑکیوں کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ وہ زندہ ہیں۔ تاہم اس واقعے کے تین سال کے بعد صوبائی پولیس نے تسلیم کیا کہ ان لڑکیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ضلع خیبر سمیت, دیگر, اضلاع کے خاصہ داروں کی, نفری گنتی, کی جائیگی

ضلع خیبر سمیت دیگر اضلاع کے خاصہ داروں کی نفری گنتی کی جائیگی

پشاور: سابق چیف سیکریٹری، قبائلی ملکان، وی آئی پیز، بیورو کریٹس اور سیاسی شخصیات سمیت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے