ہمسایہ دہشت گردوں کی ذہنیت کو فروغ دے رہا ہے

اتوار کو ساحلی شہرگوا میں ابھرتے ہوئے معاشی ممالک کی تنظیم ‘برکس’ کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ملک صرف دہشت گردوں کو پناہ ہی نہیں دیتا، بلکہ ایک ذہنیت کو فروغ دیتا ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘ہمارے خطے میں اقتصادی خوشحالی کے لیے سب سے بڑا اور براہ راست خطرہ دہشت گردی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کا مدرشپ (مخرج) انڈیا کے پڑوس میں واقع ایک ملک ہے۔’

نریندر مودی نے پاکستان کا نام لیے بغیر مزید کہا کہ ‘دنیا بھر میں دہشت گردی کے ماڈیول اس ملک سے جڑے ہوئے ہیں۔’

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘دہشت گردی کے خلاف برکس کو مل کر آواز اٹھانے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔’

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ٹویٹس کے ذریعے بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ ہمسایہ ملک جس ذہینت کو فروغ دیتا ہے ‘اسی ذہنیت کے تحت سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی کے استعمال کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘ہم اس ذہنیت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور برکس ممالک کو متحد ہو کر کارروائی کرنی چاہیے۔’

برکس کانفرنس میں برازیل کے صدر مائیکل ٹیمر، روس کے صدر ولادی میر پوتن، انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی، چین کے صدر شی جن پنگ اور جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما شرکت کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات گذشتہ چند ماہ سے شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔

گذشتہ ماہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں انڈین فوج کے کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے میں 19 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان پر ان حملہ آوروں کی سرپرستی کا الزام لگایا تھا۔

پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا ماضی میں بھی بغیر ثبوت کے الزام تراشی کرتا رہا ہے اور اس قسم کی الزام تراشی سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی دگرگوں صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انڈیا نے اس کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیری علاقے میں ‘سرجیکل سٹرائیکس’ کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا جسے پاکستان نے یکسر مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر انڈیا نے ایسا کوئی اقدام کیا تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سے چین کے قریبی تعلقات کے سبب انڈیا برکس کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف اس سلسلے میں کوئی چیز مشترکہ بیان شامل کرنےمیں شاید ہی کامیاب ہو سکے۔

سنیچر کو برکس اجلاس سے قبل چین کے صدر شی جن پنگ نے مودی کے ساتھ جو دو طرفہ بات چیت کی تھی اس میں بھی دہشت گردی پر کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

ہم قانونی کارروائی اور جامع بات چیت کے لیے ہر فرد کے حقوق کا احترام کرتے ہیں

ہم قانونی کارروائی اور جامع بات چیت کے لیے ہر فرد کے حقوق کا احترام کرتے ہیں

امریکا: اس علاقے کے دورے کے بعد واپس آنے والے عہدیدار نے نام ظاہر نہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے