امریکہ کے ساتھ جنگ کا امکان نہیں: محمد جواد ظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کی صورتحال نہیں ہے تاہم اتفاقی صورتحال ممکن ہے کہ فوجی تناو کی صورت اختیار کرے۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اخبار اینڈیپنڈنٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے مابین اتفاقی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گذرنے پر ممکنہ کشیدگی کی جانب اشارہ کیا۔

محمد جواد ظریف نے 2016 میں خلیج فارس میں چند امریکی فوجیوں کی گرفتاری کو ایک حادثاتی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات شاید کشیدگی کا باعث بنیں۔

اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے دوحہ میں ایشیا کوآپریشن ڈائیلاگ فورم کے اجلاس کے موقع پر الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل سے اپنی گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی کے حق میں نہیں ہے، کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز ایران کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور ایران چاہتا ہے کہ دنیا کے سبھی ملکوں کے بحری جہاز اس آبی گذرگاہ سے پرامن اور آزادانہ طریقے سے آمد و رفت کرتے رہیں۔

ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکا کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرے۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں امریکا کی جنگوں پر سات ٹریلین ڈالر خرچ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت نے مشرق وسطی کے علاقے کو تباہ و برباد کر دیا اور بہت سے امریکی فوجی کسی وجہ اور مقصد کے بغیر اس علاقے میں مارے گئے ہیں۔-

اس سے پہلے وزیرخارجہ نے دوحہ میں ایشیا کوآپریشن ڈائیلاگ فورم کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی ایشیا کے علاقے میں جاری بحران امریکی حکومت کی جنگ پسندی اور تنگ نظری کا نتیجہ ہیں۔

جرمن چانسلر کا دورہ افریقہ اختتامی مراحل میں داخل ہوگیا

یہ بھی پڑھیں

طلوع آفتاب سے قبل تین منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے کم از کم 10 افراد ہلاک

طلوع آفتاب سے قبل تین منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے کم از کم 10 افراد ہلاک

بھارت: بھونڈی کی نگرانی کرنے والے تھانہ سٹی اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے اے ایف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے