صحافی کو کس حکومتی شخصیت نے دی؟ انتہائی حیران کن حقائق سامنے آ گئے

کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیہ میں بھی یہ خبر چھپوانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ وزیرداخلہ نے اس خبر کی بھرپور تردید  کرتے ہوئے تحقیقات کر کے خبر چھپوانے والے کے خلاف کارروائی کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ ایسے میں چند ٹی وی اینکرز کی جانب سے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں میں وزیراعظم ہاﺅس کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا نام لیا جا رہا ہے کہ اس نے خبر سرل المیڈا تک پہنچائی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس کے جس سرکاری افسر کا نام لیا جا رہا ہے وہ کبھی کسی سیکیورٹی میٹنگ میں شریک ہی نہیں رہے، مزید یہ کہ اب تک کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس افسر کی سرل المیڈا سے کبھی براہ راست یا ون ٹو ون ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ اس حیران کن انکشاف کے بعد اب ایک مرتبہ پھر اصلی ذمہ دار کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔ اس معاملے کی تفتیش کرنے والوں کا یہ خیال ہے کہ میڈیا میں اس سرکاری افسر کا نام بھی اسی شخصیت نے دیا جس نے دراصل خبر ”لیک“ کی۔ کوشش یہ تھی کہ اس کے ذریعے توجہ میٹنگ کے شرکاءسے ہٹ جائے۔ یاد رہے میٹنگ میں گنتی کے چند وزراءکے علاوہ صرف سیکیورٹی حکام شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

کراچی: چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے