صرف 34 فیصد, خواتین خاندانی منصوبہ بندی, کے مختلف, طریقۂ, کار استعمال ,کرتی ہیں

صرف 34 فیصد خواتین خاندانی منصوبہ بندی کے مختلف طریقۂ کار استعمال کرتی ہیں

عارضی طریقۂ کار میں کونڈوم کے علاوہ ٹیکے اور مانع حمل گولیوں کا استعمال شامل ہے۔ مستقل حل کے لیے عام طور پر سرجری کے ذریعے خواتین کی نس بندی کی جاتی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ کونڈوم کا استعمال مانع حمل کا ایک نہایت محفوظ اور موثر طریقہ ہے۔ اس کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں اور کونڈوم ہی وہ واحد طریقہ ہے جو نہ صرف حمل سے بچاتا ہے بلکہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے ساتھ دیگر جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کے خطرات کی روک تھام میں مدد کرتا ہے۔
پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق 15 سے 19 سال کی سات فیصد شادی شدہ خواتین کونڈوم کے استعمال کو ترجیح دیتی ہیں جبکہ 40 سے 49 سال کی 37 سے 48 فیصد مانع خواتین حمل کے لیے کونڈوم استعمال کرنا پسند کرتی ہیں۔
سروے کے مطابق تعلیم میں اضافے سے کونڈوم کے استعمال کی شرح میں بھی اضافہ نظر آتا ہے۔ غیر تعلیم یافتہ خواتین میں اس کے استعمال کی شرح 4.5 فیصد ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین میں 18 فیصد نے بتایا ہے کہ وہ کونڈوم استعمال کرتی ہیں۔
اسی طرح متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کی خواتین میں 11 فیصد اور امیر گھرانوں میں 15 فیصد خواتین کونڈوم کا استعمال ہے۔ شہری علاقوں میں 12 فیصد اور دیہی علاقوں میں صرف سات فیصد خواتین کونڈوم استعمال کرتی ہیں۔
پاکستان کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا جائے تو اسلام آباد میں کونڈوم کا سب سے زیادہ استعمال دیکھنے میں آیا۔

اسلام آباد 18.7 فیصد
پنجاب 10 فیصد
خیبر پختونخواہ 9.6 فیصد
سندھ 6.8 فیصد
بلوچستان 5.4 فیصد
فاٹا میں 2.9 فیصد
علاقہ شہری ہو یا دیہی، کونڈوم تقریباً ہر میڈیکل سٹور اور کریانے کی دکان پر دستیاب ہوتے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز پر یہ مفت بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ گولیاں حمل کی روک تھام کا موثر اور محفوظ طریقہ سمجھی جاتی ہیں۔ اس کا استعمال بھی نہایت آسان ہے: روزانہ صرف ایک گولی کھانی پڑتی ہے اور گولیوں کا استعمال ترک کر دینے سے حمل دوبارہ بغیر کسی تاخیر اور رکاوٹ کے ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں یہ گولیاں استعمال کرنے والی خواتین کی شرح کچھ یوں ہے:

اسلام آباد 4.3 فیصد
سندھ اور خیبر پختوا خواہ 2.3 فیصد
پنجاب ایک فیصد
بلوچستان 2.7 فیصد
رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق نس بندی کا رجحان 25 سے 29 سال کی 3.4 فیصد خواتین میں نظر آتا ہے جبکہ 40 سے 45 سال کی عمر کی خواتین میں یہ شرح 12 سے 21 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

شرح خواندگی کے حساب سے 10 فیصد ناخواندہ خواتین اور 6.5 فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین یہ طریقہ اپناتی ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں میں اس طریقے کی مقبولیت 7.4 فیصد خواتین میں ہے اور امیر گھرانوں میں 9.3 فیصد خواتین نس بندی کرواتی ہیں۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں نس بندی کروانے والی خواتین کی شرح:

پنجاب اور سندھ 10 فیصد
اسلام آباد 9.3 فیصد
خیبر پختونخواہ 4 فیصد
بلوچستان 2.4 فیصد
مانع حمل کے لیے مردانہ نس بندی کا بھی طریقۂ کار موجود ہے، تاہم یہ زیادہ مقبول نظر نہیں آتا اور صرف 0.1 فیصد گھرانے اس طریقے کو اپناتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے مطابق پاکستان میں بسنے والی ہر پانچ میں سے ایک عورت زچگی سے محفوظ رہنا چاہتی ہے لیکن اسے مانع حمل کے موثر طریقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو ہے اور یہ اس قدر نایاب

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو اور یہ اس قدر نایاب

یہ افراد دنیا کے وہ 15 فیصد افراد ہیں جن میں اب تک معلوم شدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے