سی اے جی, ایجوکیشن فاؤنڈیشن فتح اللہ گولن, سے, تعلق رکھنے والی, تنظیم سے, لے کر ترک معارف فاؤنڈیشن, کو منتقل کر, دیے گئے

سی اے جی ایجوکیشن فاؤنڈیشن فتح اللہ گولن سے تعلق رکھنے والی تنظیم سے لے کر ترک معارف فاؤنڈیشن کو منتقل کر دیے گئے

اسلام آباد: تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کے بعد پاکستان میں کام کرنے والے پاک ترک سکول اور کالج متاثر نہیں ہوں گے

پاک ترک سکولوں اور کالجوں کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ‘اس اعلامیے کا پاکستان بھر میں قائم پاک ترک سکولوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ان کا انتظام پہلے ہی سے فتح اللہ گولن سے تعلق رکھنے والی تنظیم سے لے کر ترک معارف فاؤنڈیشن کو منتقل کر دیے گئے تھے۔‘
سکولوں کی منتقلی کا یہ عمل گذشتہ برس دسمبر میں پاکستان کی عدالتِ عالیہ کی جانب سے دیے گئے اس فیصلے کی روشنی میں شروع ہوا تھا جس میں حکومت کو ایسا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے گولن سے تعلق رکھنے والی تنظیم پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے درخواست کو بھی منظور کیا تھا۔
فتح اللہ گولن پر ترکی میں جولائی 2016 میں ناکام بغاوت کا الزام ہے جس کے بعد ترکی سمیت دنیا بھر میں گولن کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا۔ سنہ 2016 میں اس کے بعد ہی معارف فاؤنڈیشن قائم کی گئی تھی جسے فتح اللہ گولن سے تعلق رکھنے والی تنظیم کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں کا انتظام سنبھالنے اور انہیں چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
رواں برس جنوری میں معارف فاؤنڈیشن نے اپنی ویب سائٹ پر پاکستان میں موجود تمام تر پاک ترک سکولوں کا انتظام سنبھال لینے کی تصدیق کی تھی۔
پاک ترک سکولوں کے عہدیدار کے مطابق پاکستان میں 1995 میں پاک ترک فاؤنڈیشن کے تحت بننے والے پاک ترک سکول اور کالجز کے 28 کیمپس ہیں اور تقریباً 11 ہزار بچے یہاں زیر تعلیم ہیں۔
‘معارف فاؤنڈیشن کے انتظام سنبھالنے کے بعد بھی ہر کیمپس میں پرنسپل پہلے کی طرح پاکستانی ہیں تاہم ان پر ایک ترک ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا ہے۔’
پاک ترک سکولوں کے عہدیدار اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ذرائع ابلاغ پر بیان دینے کے مجاز نہیں تھے۔ لاہور میں موجود تمام تر پاک ترک سکولوں اور کالجز کی ویب سائٹس تاحال معطل ہیں۔
اس حوالے سے عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ ویب سائٹس معارف فاؤنڈیشن کی طرف سے انتظام سنبھالنے کے بعد سے معطل کر دی گئیں تھی۔ ‘معارف کی طرف سے نئی ویب سائٹس بنانے کے حوالے سے کام جاری ہے۔’
سنہ 2016 میں ترک عملے کو پاک ترک تعلیمی اداروں کے انتظام سے الگ کر دیا تھا۔ تاہم عملے کے یہ افراد بدستور پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کی حیثیت کے قیام پذیر تھے۔ تاہم سنہ 2017 میں ان میں سے کئی افراد کو خاندانوں سمیت حراست میں لے لیا گیا تھا۔
عالمی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق انہیں بعد میں ترک حکومت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے وزرات داخلہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پاک ترک انٹرنیشنل سی اے جی ایجوکیشن فاؤنڈیشنکو کالعدم قرار دیا ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس ضمن میں 18 اپریل کو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا تاہم بدھ کو یہ نوٹیفیکیشن منظر عام پر لایا گیا۔
اس نوٹیفیکیشن کے مطابق اس ’تنظیم کے شدت پسندی میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں اس لیے اسے کالعدم تنظیموں میں شامل کیا جا رہا ہے‘۔
اس تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ سنہ 1997 کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے۔
پاک ترک سی اے جی ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دینے کے بعد پاکستان میں کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کی تعداد اب 71 ہو گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے رواں سال مارچ میں بھی دو تنظیموں کو کالعدم قرار دیا تھا جس میں جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن شامل ہیں جبکہ تین تنظیمیں واچ لسٹ میں شامل ہیں۔
پاک ترک انٹرنیشنل سی اے جی ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو کالعدم تنظیم قرار دینے کے بعد سٹیٹ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کو اس تنظیم کے بینک اکاؤنٹس منجمند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق مختلف بینکوں کو یہ حکم بھی جاری کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اس تنظیم کے اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے یا جمع کرروانے کے لیے آئے تو فوری طور پر مقامی پولیس کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے۔
عدالت عظمیٰ نے بھی اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا تھا اور سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن کو اس کی رجسٹریشن منسوح کرنے کا حکم دیا تھا۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس تنظیم کے تحت پاکستان کے مختلف شہروں میں 27 تعلیمی ادارے قائم کیے گئے تھے۔
اس فاؤنڈیشن کا تعلق گولن موومنٹ سے بتایا جاتا ہے جس کے بارے میں حکام کا الزام ہے کہ وہ سنہ 2016 میں ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت کے پیچھے تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اسلامی ملکوں کی نتظیم کے تاشقند میں ہونے والے 43 ویں اجلاس کا بھی ذکر کیا ہے جس میں گولن موومنٹ کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق پاک ترک انٹرنیشنل سی اے جی ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ابھی تک کوئی گرفتاری یا ان کے اثاثے منجمند کرنے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔
اہلکار کے مطابق ابھی تک وزارت داخلہ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اس تنظیم کے کتنے اکاؤنٹس مختلف بینکوں میں ہیں اور ان اکاؤنٹس میں موجود رقم کتنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جب تک سیاستدان جمہوریت نہیں لاتے جمہوریت کیسےآسکتی ہے

جب تک سیاستدان جمہوریت نہیں لاتے جمہوریت کیسےآسکتی ہے

اسلام آباد: وفاقی وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے