سعودی عرب, میں قید پاکستانیوں, کو واپس لانے کے حوالے, سے کوئی خاص, حکمتِ عملی دیکھنے, میں نہیں آئی

سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کو واپس لانے کے حوالے سے کوئی خاص حکمتِ عملی دیکھنے میں نہیں آئی

اسلام آباد: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے کہنے پر 2107 قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا۔ لیکن اس کے بعد سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق 50 کے قریب پاکستانی قید سے رہا ہو کر ملک واپس آئے ہیں جو اپنی شناخت نہیں کروانا چاہتے جبکہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں واپس آنے والوں کی تعداد 200 بتائی جا رہی ہے

پنجاب میں واپس آنے والوں میں اب تک چھوٹے موٹے جرائم کے نتیجے میں سزا پانے والے لوگ واپس آئے ہیں۔ ان میں سے نارووال کے محمد اختر بھی ہیں جن کو اقامہ کی تاریخ ختم ہونے کی صورت میں چھ ماہ قید میں گزارنے پڑے۔ ان کے علاوہ گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، رحیم یار خان اور کراچی لوٹنے والوں میں کریڈٹ کارڈ کی معیاد ختم ہونے اور اقامہ دیر سے بنوانے یا تاریخ ختم ہونے کے بعد اقامہ رکھنے کے نتیجے میں چھ، چھ ماہ قید کی سزا ملی تھی۔
واپس آنے والوں میں چند لوگوں سے بات کرنے پر پتا چلا کہ ان میں سے زیادہ تر کی سزا سعودی ولی عہد کے اعلان سے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی اور یہ لوگ اپنی سزا ختم کرکے وطن واپس آئے ہیں نا کہ پاکستانی حکومت کی مدد سے۔ یہ سبھی لوگ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔
اس بارے میں پاکستان تحریکِ انصاف کی رکن عندلیب عباس نے بتایا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ ہم کام کر رہے ہیں۔ ایک سٹریٹیجک کونسل ہے جو سب لوگوں سے ملے گی اور دیکھے گی کہ جو قیدی آئے ہیں اور جو آنے والے ہیں ان کو سفارتی مدد ملی ہے یا نہیں اور ہم موجودہ معاہدوں کو کیسے بہتر کرسکتے ہیں۔ ہماری سعودی عرب کی ڈیسک اس پر کام کر رہی ہے۔ حال ہی میں جب وزیرِ اعظم عمران خان ایران کے دورے پر گئے تھے تو ان کا زیادہ تر زور قیدیوں کی رہائی اور ان کے تبادلے پر رہا۔ یعنی اب یہ بات وزیرِ اعظم کی سطح پر کی جارہی ہے۔
جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق وزارتِ خارجہ کے لاہور ہائی کورٹ اور سینیٹ میں جمع کرائے گیے اعداد و شمار کو اگر دیکھا جائے تو اس وقت 3300 پاکستانی سعودی جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں سے 47 فیصد کو منشیات لے جانے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
جے پی پی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے پاکستانی قیدیوں کا ریکارڈ منظرِ عام پر نہیں لایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ادارے نے گذشتہ پانچ برسوں میں 100 سے زائد موت کی سزاوں کو ریکارڈ کیا ہے جو باقی ممالک کے باشندوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت سعودی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔
اس بارے میں جب وزارتِ خارجہ سے جواب طلب کیا گیا تو بتایا گیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین قیدیوں کے تبادلے کا معاملہ حساس ہے جس پر حکومتی نمائندے بات نہیں کریں گے۔
ایک پاکستانی قیدی کو سزائے موت دینے سے پہلے سعودی حکام کو پاکستانی سفارتخانے کو مطلع کرنا ضروری ہے۔ جب ان خاندانوں سے بات کی گئی جن کے گھر والوں کو سعودی عرب میں پھانسی دی گئی تھی تو پتا چلا کہ زیادہ تر سعودی حکام پاکستانی حکومت کو کسی پاکستانی کو پھانسی کی سزا دینے سے پہلے نہیں بتاتے۔
اس بارے میں جے پی پی کی سارہ بلال نے بتایا کہ ’عمران خان کا سعودی ولی عہد کے سامنے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے بارے میں بات کرنے سے ایک بہت اچھا تاثر ملا ہے۔ اب آپ ان کے مقدمات کھلوانے کی استدعا کر سکتے ہیں ثبوتوں کی بنیاد پر کہ یہ لوگ منشیات فروشوں کا نشانہ بننے والے لوگ ہیں۔ یہ اپنی مرضی سے یہ کام نہیں کر رہے ان کے ذریعے زبردستی یہ کام کروایا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان معاملات میں حکومت ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ’ہمارے قیدی جو باہر کی جیلوں میں قید ہوتے ہیں ان کے پاس اپنے حقوق کے تحفظ کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ نہ وہ اس ملک کی زبان بول سکتے ہیں اور نہ اس کا قانون سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس وکیل کرنے کے پیسے ہوتے ہیں۔ ہر قیدی کسی دوسرے ملک میں بہت غیر محفوظ ہوتا ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان نے سنہ 1963 کے سفارتی تعلقات پر مبنی ویانا کنونشن کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کی شِق 36 کے مطابق جب ایک ملک کا شہری کسی غیر ملک میں کام کی غرض سے جائے اور وہاں گرفتار ہو جائے تو اس صورت میں اسے اپنے سفارتخانے کو آگاہ کرنے کی اور اس شخص کو قانونی چارہ جوئی کرنے کے حوالے سے تجاویز دینے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔
رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے محمد نعیم اس وقت کراچی میں مزدوری کی غرض سے رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’ہم تو مزدوری کی غرض سے کسی بھی طریقے سے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں قانونی معاملات کے بارے میں نہیں بتایا جاتا۔ ایجنٹ کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ہمیں وہاں پہنچا دیا جائے۔ لیکن وہاں کے قانون کے بارے میں ہمیں وہیں جا کر پتا چلتا ہے۔ اکثر پتا لگنے میں دیر ہو جاتی ہے۔‘
نعیم نے بتایا کہ پاکستان کے سفارتخانے سے کسی قسم کی مدد کی امید رکھنا وقت ضائع کرنے کی بات ہے۔ مجھے جب گرفتار کیا گیا تھا تو میرے ساتھ کام کرنے والے لوگوں نے سفارتخانے سے رجوع کیا۔ ان سے کہا گیا کہ اس کو کیا ضرورت تھی سعودی عرب آنے کی؟‘

یہ بھی پڑھیں

عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ پررکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کردی

عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ پررکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کردی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے وزیر ہاؤسنگ پنجاب محمود الرشید کی ملاقات ہوئی ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے